انگلستان

انگلستان (england) نامی ملک متحدہ سلطنت کا حصہ ہے۔ اس کی سرحدیں شمال میں اسکاٹ لینڈ اور مغرب میں ویلز سے ملتی ہیں۔ شمال مغرب میں آئرش سمندر جبکہ سیلٹک سمندر جنوب مغرب میں ملتا ہے۔ شمالی سمندر مشرق میں جبکہ انگلش چینل جنوب میں اسے یورپ کے براعظم سے طبعی طور پر الگ کرتا ہے۔ زیادہ تر انگلستان وسطی اور جنوبی حصے سے مل کر بنا ہے جہاں برطانیہ کا جزیرہ واقع ہے۔ یہ علاقہ شمالی بحرِ اوقیانوس کہلاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس ملک میں 100 سے زیادہ چھوٹے چھوٹے جزائر بھی شامل ہیں۔

انگلستان

پرچم
ترانہ: متعدد
بنیادی طور پر "God Save the King/Queen"
محل وقوع  انگلستان  (dark green)

 Europe  (green & dark grey)
 the مملکت متحدہ  (green)

حیثیت ملک
دار الحکومت
اور سب سے بڑا شہر
لندن
قومی زبان انگریزی زبان
علاقائی زبانیں کورنش
نسلی گروہ (2011)
  • 85.4% سفید فام
  • 7.8% ایشیائی
  • 3.5% سیاہ فام
  • 2.3% مخلوط
  • 0.4% عرب
  • 0.6% دیگر
مذہب کلیسائے انگلستان
نام آبادی انگریز
خود مختار ریاست مملکت متحدہ
حکومت حصہ آئینی بادشاہت
 شاہی حکمران
ایلزبتھ دوم
قیام
 اینگلو سیکسن آبادکاری
پانچویں-چھٹی صدی
 اتحاد
10th century
 اسکاٹ لینڈ کے ساتھ یونین
1 مئی 1707
 
{{{established_date5}}}
رقبہ
 زمین
130,279 کلومیٹر2 (50,301 مربع میل)
آبادی
 2014 تخمینہ
54,316,600
 2011 مردم شماری
53,012,456
 کثافت
406.9/کلو میٹر2 (1,053.9/مربع میل)
خام ملکی پیداوار (برائے نام) 2009 تخمینہ
 کل
$2.68 trillion
 فی کس
$50,566
کرنسی پاؤنڈ اسٹرلنگ (GBP)
منطقۂ وقت گرینچ معیاری وقت (متناسق عالمی وقت)
برطانوی موسم گرما وقت (متناسق عالمی وقت+1)
تاریخ ہیئت dd/mm/yyyy (قبل مسیح)
ڈرائیونگ سمت left
کالنگ کوڈ +44
سرپرست سینٹ Saint George

آج کے انگلستان کا علاقہ پہلے پہل جدید انسانوں نے پتھر کے زمانے کے آخر میں آباد کیا تھا۔ تاہم اس علاقے کو انگلستان کا نام دینے کی وجہ پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی میں یہاں آنے والے جرمینک قبائل تھے۔ 927 عیسوی میں انگلستان ایک متحدہ ریاست بن گیا۔ 15ویں صدی میں شروع ہونے والے “ایج آف ڈسکوری” کے دوران دنیا بھر میں انگلستان کو ثقافت اور قانون کے لحاظ سے مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی۔ انگریزی زبان،انجلیکن چرچ، انگریزی قوانین بہت سارے دیگر ممالک کے قانونی نظام کی بنیاد بن گئے۔ یہاں کے پارلیمانی جمہوری نظام کو بھی بہت سارے ممالک نے اپنا لیا۔ 18ویں صدی کے صنعتی انقلاب کی ابتدا انگلستان سے ہوئی اور انگریز قوم دنیا کی پہلی صنعتی قوم بنی۔ انگلستان کی رائل سوسائٹی نے جدید تجرباتی سائنس کی بنیاد رکھی۔

انگلستان بالخصوص وسطی اور جنوبی حصوں کی سرزمین زیادہ تر کم بلندی والی پہاڑیوں اور میدانوں پر مشتمل ہے۔ تاہم شمال اور جنوب مغرب میں زیادہ بلند علاقے بھی موجود ہیں۔ انگلستان کا دارلحکومت لندن نہ صرف ملک کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ کئی حوالوں سے یورپی یونین کی سب سے بڑی بلدیہ کا درجہ رکھتا ہے۔ انگلستان کی کل آبادی 5 کروڑ 10 لاکھ ہے جو برطانیہ کی کل آبادی کا 84 فیصد بنتی ہے۔ تاہم آبادی کا بڑ احصہ لندن، جنوب مشرق اور وسطی علاقوں کے ساتھ ساتھ شمال مغرب میں آباد ہے۔ یہی تمام علاقے 19ویں صدی کے صنعتی انقلاب کے دوران آباد ہوئے تھے۔ بڑے شہروں سے ہٹ کر زیادہ تر علاقے چراگاہوں اور سرسبز میدانوں پر مشتمل ہے۔

1284 کے بعد سے انگلستان کی سلطنت بشمول ویلز کے یکم مئی 1707 تک آزاد ریاست تھا۔ تاہم اس تاریخ کو معاہدے کے تحت سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کی سلطنتیں ملا دی گئیں۔ 1800 عیسوی میں آئرلینڈ کو بھی ملا کر یونائٹڈ کنگڈم آف گریٹ برٹین اینڈ آئر لینڈ بنا دیا گیا۔ 1922 میں آئرلینڈ کو الگ ڈومینن کا درجہ دے دیا گیا۔ تاہم 1927 میں ایک اور پارلیمانی ایکٹ کے تحت آئرلینڈ کی چھ کاؤنٹیوں کو واپس لے کر یونائٹڈ کنگڈم آف گریٹ برٹین اینڈ ناردرن آئر لینڈ بنا دیا گیا۔

This article is issued from Wikipedia. The text is licensed under Creative Commons - Attribution - Sharealike. Additional terms may apply for the media files.