اردن

اردن جسے سرکاری طور پر (عربی: المملکۃ الأردنیۃ الہاشمیۃ) بھی کہا جاتا ہے، دریائے اردن کے مشرقی کنارے پر واقع مغربی ایشیا کا ملک ہے۔ اس کے مشرق میں سعودی عرب اور مغرب میں اسرائیل واقع ہے۔ اردن اور اسرائیل بحیرہ مردار کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ اردن کی واحد بندرگاہ اس کے جنوبی سرے پر خلیج عقبہ پر واقع ہے۔ اس بندرگاہ کو اسرائیل، مصر اور سعودی عرب بھی مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اردن کا زیادہ تر حصہ صحرائے عرب پر مشتمل ہے۔ تاہم شمال مغربی سرے پر ہلال نما زرخیز علاقہ موجود ہے۔ اس کا دار الحکومت عمان ہے۔

  

اردن
پرچم نشان

 

شعار
(عربی میں: الله، الوطن، الملك) 
ترانہ:السلام الملکی الاردنی  
زمین و آبادی
متناسقات 31.2°N 36.5°E / 31.2; 36.5  
پست مقام بحیرہ مردار (-428 میٹر ) 
رقبہ 89341 مربع کلومیٹر  
دارالحکومت عمان  
سرکاری زبان عربی  
آبادی 10428241 (19 جون 2019) 
اوسط عمر
71.556 سال (1999)
71.73 سال (2000)
71.907 سال (2001)
72.083 سال (2002)
72.256 سال (2003)
72.427 سال (2004)
72.594 سال (2005)
72.76 سال (2006)
72.924 سال (2007)
73.087 سال (2008)
73.25 سال (2009)
73.412 سال (2010)
73.571 سال (2011)
73.729 سال (2012)
73.883 سال (2013)
74.034 سال (2014)
74.182 سال (2015)
74.329 سال (2016) 
حکمران
اعلی ترین منصب عبداللہ دوم  
وزیر اعظم اردن   عمر رزاز (14 جون 2018–) 
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 1946 
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر 18 سال  
الحاق اور رکنیت
اقوام متحدہ (14 دسمبر 1955–)
عرب لیگ (25 مئی 1946–)
عالمی تجارتی ادارہ
تنظیم تعاون اسلامی
بین الاقوامی بنک برائے تعمیر و ترقی (29 اگست 1952–)
بین الاقوامی انجمن برائے ترقی (4 اکتوبر 1960–)
بین الاقوامی مالیاتی شرکت (20 جولا‎ئی 1956–)
کثیرالفریق گماشتگی برائے ضمانت سرمایہ کاری (12 اپریل 1988–)
بین الاقوامی مرکز برائےتصفیہ تنازعات سرمایہ کاری (29 نومبر 1972–)
انٹرپول
تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار
یونیسکو (14 جون 1950–)
عالمی ڈاک اتحاد
عالمی ٹیلی مواصلاتی اتحاد (20 مئی 1947–) 
مشترکہ سرحدیں
اسرائیل (Israel–Jordan border )
سعودی عرب (Jordan–Saudi Arabia border )
سوریہ (Jordan–Syria border )
عراق (Iraq–Jordan border ) 
خام ملکی پیداوار
  کل
40068308516.2755 امریکی ڈالر (2017) 
  فی کس 4060.11 بین الاقوامی ڈالر (1990) 
جی ڈی پی تخمینہ
  فی کس 511 امریکی ڈالر (1965)
519 امریکی ڈالر (1966)
458 امریکی ڈالر (1967)
374 امریکی ڈالر (1968)
432 امریکی ڈالر (1969)
372 امریکی ڈالر (1970)
375 امریکی ڈالر (1971)
419 امریکی ڈالر (1972)
485 امریکی ڈالر (1973)
597 امریکی ڈالر (1974)
660 امریکی ڈالر (1975)
805 امریکی ڈالر (1976)
963 امریکی ڈالر (1977)
1164 امریکی ڈالر (1978)
1422 امریکی ڈالر (1979)
1646 امریکی ڈالر (1980)
1781 امریکی ڈالر (1981)
1828 امریکی ڈالر (1982)
1844 امریکی ڈالر (1983)
1786 امریکی ڈالر (1984)
1724 امریکی ڈالر (1985)
2125 امریکی ڈالر (1986)
2159 امریکی ڈالر (1987)
1929 امریکی ڈالر (1988)
1243 امریکی ڈالر (1989)
1168 امریکی ڈالر (1990)
1157 امریکی ڈالر (1991)
1338 امریکی ڈالر (1992)
1338 امریکی ڈالر (1993)
1418 امریکی ڈالر (1994)
1471 امریکی ڈالر (1995)
1469 امریکی ڈالر (1996)
1499 امریکی ڈالر (1997)
1605 امریکی ڈالر (1998)
1624 امریکی ڈالر (1999)
1657 امریکی ڈالر (2000)
1728 امریکی ڈالر (2001)
1812 امریکی ڈالر (2002)
1889 امریکی ڈالر (2003)
2061 امریکی ڈالر (2004)
2203 امریکی ڈالر (2005)
2537 امریکی ڈالر (2006)
2762 امریکی ڈالر (2007)
3385 امریکی ڈالر (2008)
3492 امریکی ڈالر (2009)
3679 امریکی ڈالر (2010)
3807 امریکی ڈالر (2011)
3870 امریکی ڈالر (2012)
3992 امریکی ڈالر (2013)
4066 امریکی ڈالر (2014)
4096 امریکی ڈالر (2015)
4087 امریکی ڈالر (2016)
4129 امریکی ڈالر (2017) 
کل ذخائر 46380000 امریکی ڈالر (1960)
51230000 امریکی ڈالر (1961)
58050000 امریکی ڈالر (1962)
62660000 امریکی ڈالر (1963)
77080000 امریکی ڈالر (1964)
139846640 امریکی ڈالر (1965)
167673430 امریکی ڈالر (1966)
244064400 امریکی ڈالر (1967)
290247400 امریکی ڈالر (1968)
262689200 امریکی ڈالر (1969)
257533890 امریکی ڈالر (1970)
257685715 امریکی ڈالر (1971)
292676198 امریکی ڈالر (1972)
360195580 امریکی ڈالر (1973)
461452944 امریکی ڈالر (1974)
570673410 امریکی ڈالر (1975)
578862216 امریکی ڈالر (1976)
776098876 امریکی ڈالر (1977)
1068844177 امریکی ڈالر (1978)
1583911654 امریکی ڈالر (1979)
1744684397 امریکی ڈالر (1980)
1510813967 امریکی ڈالر (1981)
1377509701 امریکی ڈالر (1982)
1239990117 امریکی ڈالر (1983)
841785311 امریکی ڈالر (1984)
769724328 امریکی ڈالر (1985)
853055559 امریکی ڈالر (1986)
909726819 امریکی ڈالر (1987)
414369577 امریکی ڈالر (1988)
770634411 امریکی ڈالر (1989)
1138743539 امریکی ڈالر (1990)
1104763223 امریکی ڈالر (1991)
1030115563 امریکی ڈالر (1992)
1946380519 امریکی ڈالر (1993)
1996868732 امریکی ڈالر (1994)
2279459582 امریکی ڈالر (1995)
2054682671 امریکی ڈالر (1996)
2435932079 امریکی ڈالر (1997)
1988259781 امریکی ڈالر (1998)
2770018266 امریکی ڈالر (1999)
3441302678 امریکی ڈالر (2000)
3174221846 امریکی ڈالر (2001)
4116412747 امریکی ڈالر (2002)
5365764580 امریکی ڈالر (2003)
5446636733 امریکی ڈالر (2004)
5461160795 امریکی ڈالر (2005)
6982163589 امریکی ڈالر (2006)
7924938979 امریکی ڈالر (2007)
8918475737 امریکی ڈالر (2008)
12135158994 امریکی ڈالر (2009)
13632982841 امریکی ڈالر (2010)
12094961146 امریکی ڈالر (2011)
8830598061 امریکی ڈالر (2012)
13826036063 امریکی ڈالر (2013)
16047206792 امریکی ڈالر (2014)
16571894925 امریکی ڈالر (2015)
15543454084 امریکی ڈالر (2016) 
اشاریہ انسانی ترقی
اشاریے
0.748 (2014) 
شرح بے روزگاری 11 فیصد (2014) 
دیگر اعداد و شمار
کرنسی اردنی دینار  
مرکزی بینک اردنی مرکزی بینک  
ہنگامی فون
نمبر
9-1-1  
منطقۂ وقت 00 (معیاری وقت )
متناسق عالمی وقت+03:00 (روشنیروز بچتی وقت ) 
ٹریفک سمت دائیں  
ڈومین نیم jo.  
آیزو 3166-1 الفا-2 JO 
بین الاقوامی فون کوڈ +962 

تاریخی اعتبار سے یہاں بہت ساری تہذیبیں آباد ہوتی رہی ہیں۔ کچھ عرصے کے لیے اردن پر مصری فرعونوں کا بھی قبضہ رہا ہے جو عظیم تر اسرائیلی مملکت کے حصے پر مشتمل تھا۔ اس کے علاوہ یہاں مقدونیائی، یونانی، رومن، بازنطینی اور عثمانی ثقافتوں کے اثرات بھی مرتب ہوئے۔ ساتویں صدی عیسوی سے یہاں مسلمانوں اور عربوں کی ثقافت کے اثرات گہرے ہونے لگے ہیں۔  

ہاشمی بادشاہت یہاں کی آئینی بادشاہت ہے اور یہاں عوام کی نمائندہ حکومت بھی کام کرتی ہے۔ حکمرانِ وقت ملک کا بادشاہ ہوتا ہے جو ملکی افواج کے سپہ سالار کا کام بھی کرتا ہے۔ بادشاہ اپنے اختیارات کو وزیرِ اعظموں اور وزراء کی کونسل یا کابینہ کے ذریعے استعمال کرتا ہے۔ کابینہ جمہوری طور پر منتخب ہاؤس آف ڈپٹیز اور ہاؤس آف نوٹیبلز یعنی سینٹ کو جواب دہ ہوتی ہے۔ ہاؤس آف ڈپٹیز اور سینٹ مل کر قانون سازی کا کام کرتے ہیں۔ عدلیہ حکومت سے آزاد رہ کر کام کرتی ہے۔

جدید اردن کی زیادہ تر آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ سی آئی اے کی ورلڈ فیکٹ بک کے مطابق اردن کو فری مارکیٹ اکانومی کے حوالے سے ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے۔ علاقے کے دیگر ممالک کی نسبت اردن نے سب سے زیادہ آزاد تجارت کے معاہدے کیے ہوئے ہیں۔ یہاں کی حکومت مغرب نواز ہے اور امریکا اور برطانیہ سے ان کے گہرے تعلقات ہیں۔ 1996 میں اردن امریکا کا اہم غیر ناٹو اتحادی بن گیا۔ خطے میں مصر کے علاوہ اردن واحد ملک جس کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ عرب لیگ، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، عرب پارلیمنٹ، عالمی بینک، عالمی عدالتِ انصاف اور اقوامِ متحدہ وغیرہ کا یہ بانی رکن بھی ہے۔ مزید برآں اردن یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کے ساتھ بھی تعلقات گہرے کر رہا ہے۔

This article is issued from Wikipedia. The text is licensed under Creative Commons - Attribution - Sharealike. Additional terms may apply for the media files.