ٹائم ڈائیلیشن

دو اجسام کی اضافی رفتار کے فرق یا دو اجسام کے قریب موجود کمیتوں کے فرق کی وجہ سے ان اجسام پر گزرنے والے وقت میں فرق پڑ جاتا ہے۔ اس تصور کو ٹائم ڈائیلیشن کا نام دیا گیا ہے۔ یہ تصور آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت خصوصی (اضافی حرکت کے لیے ) اور نظریہ اضافیت عمومی (کمیت کے قریب ) سے اخذ کیا گیا ہے اور اس کی تجرباتی تصدیق ہو چکی ہے۔

ٹائم ڈائیلیشن اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ کس طرح دو ایک ہی طرح کام کرنے والی گھڑیاں مختلف رفتار پر مختلف وقت بتاتی ہیں۔ مثال کے طور پر آئی ایس ایس (انٹرنیشنل سپیس اسٹیشن) کے خلاباز  جب خلائی مرکز سے واپس زمین پر آتے ہیں تو اُن کی عمر میں اس سے کم اضافہ ہوا ہوتا ہے جو وہ  اگر زمین پرہوتے تو ہوتا۔ جی پی ایس کو بھی زمین کے وقت کے حساب سے رکھنے کے لیے اس میں  ہر روز مائیکرو سیکنڈ کی تبدیلی کی جاتی ہے۔

وقت کا رکنا

وقت کا سست پڑنا تو ممکن ہے لیکن اس کا روکنا ممکن نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ مساوات ہیں:

عام حالات میں v کی قیمت اتنی کم ہوتی ہے کہ ایک بہت ہی چھوٹا عدد 1 سے نفی ہوتا ہے اور ہمیں نہ وقت کے کم پڑنے کا پتا چلتا ہے نا ماس/کمیت کے بڑھنے کا لیکن اگر v کی قیمت قابل ذکر ہو جائے تو ہم اس اثر کو نوٹ کر سکتے ہیں۔

لیکن v کی قیمت c یعنی روشنی کی رفتار کے برابر نہیں ہوسکتی کیونکہ اس طرح جسم کی کمیت لامتناہی ہو جائے گی۔

اگر ہم کسی طرح یہ کر دیں تو وقت کی قیمت، پہلی مساوات میں، صفر ہو جائے گی یعنی وہ رک جائے گا۔ مگر کمیت لامتناہی اور لمبائی صفر ہونے کی وجہ سے یہ نہیں ہو سکتا۔ کسی کمیت والی چیز کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ روشنی سے تیز سفر کر سکے۔

مزید دیکھیے

==بیرونی روابط==* نظریہ اضافت اور ڈائم ڈائیلیشن کا تصور سمجھانے کے لیے اینی میشن* وقت سست پڑنے کی مزید عملی مثالیں

  • آن لائن ٹائم ڈائیلیشن کیلکولیٹر
  • پراپر ٹائم
  • Michael Merrifield۔ "Lorentz Factor (and time dilation)"۔ Sixty Symbols۔ Brady Haran for the یونیورسٹی آف ناٹنگھم۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

سانچہ:Relativity

This article is issued from Wikipedia. The text is licensed under Creative Commons - Attribution - Sharealike. Additional terms may apply for the media files.