مسقط

مسقط سلطنت عمان کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ 2005ء کے مطابق شہر کی آبادی 6 لاکھ 50 ہزار ہے۔ مسقط 6 ولایتوں میں تقسیم ہے۔

 

مسقط
(عربی میں: مسقط) 
 

مسقط
پرچم

انتظامی تقسیم
ملک عمان
پرتگیزی سلطنت (1515–1650)  [1]
دارالحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ محافظہ مسقط  
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 23.613888888889°N 58.592222222222°E / 23.613888888889; 58.592222222222 [2] 
رقبہ 3500 مربع کلومیٹر  
بلندی 69 میٹر  
آبادی
کل آبادی 646027 (2005) 
مزید معلومات
جڑواں شہر
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ 
جیو رمز 287286 
[[file:|16x16px|link=|alt=]] 
نحوی غلطی
[مکمل اسکرین پر]
مطرح، مسقط

تاریخ

یہ مشرق وسطی کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے جس کے تاریخی حوالہ جات دوسری صدی بعد مسیح میں ملتے ہیں جب یہ روم اور مشرق کے درمیان تجارت کا مرکز تھا۔

مشہور جہاز راں واسکوڈے گاما ہندوستان کے سفر کے دوران یہاں آیا تھا اور بعد ازاں 1507ء میں پرتگیزیوں نے شہر پر قبضہ کر لیا۔ 1649ء میں امام سلطان بن سیف نے پرتگیزیوں کو شکست دے کر مسقط سے نکال دیا۔

پرتگیزیوں کو شکست دینے کے بعد ان سے حاصل ہونے والے بحری بیڑے کی بدولت سلطان نے زنجبار سے لے کر گوادر تک ایک وسیع سلطنت قائم کی۔ یہ سلطنت عمان اور مسقط کا سنہرا ترین دور تھا۔

1679ء میں امام سلطان کے انتقال کے بعد سلطنت مسائل کا شکار ہو گئی۔ 1737ء میں فارسیوں نے جارحیت کی اور بالآخر شکست کھائی۔

1803ء میں سعودی عرب کے وہابیوں نے عمان پر حملہ کیا جسے سید سعید بن سلطان نے ناکام بنایا۔ 1853ء میں سلطان نے دار الحکومت عمان سے زنجبار منتقل کر دیا جس کے ساتھ ہی مسقط اور عمان کا زوال شروع ہو گیا۔

1913ء میں سلطان تیمور بن فیصل سلطان بنے اور علاقے کو مسقط و عمان کا نام دیا۔ سلطان مسقط سے جبکہ امام عمان سے حکومت کر رہے تھے۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد سلطان نے برطانیہ کی مدد سے امام کو شکست دی اور عمان کو متحد کر دیا۔

نگار خانہ

بیرونی روابط

 یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔
  1.  "صفحہ مسقط في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اگست 2019۔
  2. اجازت نامہ: دائرہ عام
This article is issued from Wikipedia. The text is licensed under Creative Commons - Attribution - Sharealike. Additional terms may apply for the media files.