فرینکلن ڈی روزویلٹ

امریکا کے بتیسویں صدر۔ نیویارک میں پیدا ہوئے۔ ہارورڈ یونیورسٹی اور کولمبیا یونیورسٹی میں تعلیم پائی اور نیویارک میں وکالت شروع کی۔ 1901ء میں ریاست نیویارک کی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1913ء سے 1920ء تک بحری فوج کے نائب سیکرٹری اور 1929ء سے 1933ء تک نیویارک کے گورنر رہے۔ 1933ء میں جب کہ معاشی بحران شباب پر تھا۔ ملک کے صدر منتخب ہوئے۔ اپنے زمانۂ صدارت میں نیوڈیل کے تحت انتظامی، معاشی اور سماجی اصلاحات نافذ کیں اور ملک کی حالت سدھاری۔ چرچل کے ہمراہ ایٹلانٹک چارٹر کا اعلان کیا۔ ان کے عہد میں جمہوری اداروں اور تحریکوں کو ملک میں بہت فروغ ہوا۔

فرینکلن ڈی روزویلٹ
(انگریزی میں: Franklin Delano Roosevelt) 
 

مناصب
گورنر نیویارک  
دفتر میں
1 جنوری 1929  – 31 دسمبر 1932 
صدر ریاستہائے متحدہ امریکا (32  )  
دفتر میں
4 مارچ 1933  – 12 اپریل 1945 
ہربرٹ ہوور  
ہیری ٹرومین  
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Franklin Delano Roosevelt) 
پیدائش 30 جنوری 1882 [1][2][3][4][5][6] 
وفات 12 اپریل 1945 (63 سال)[7][1][2][3][4][5][6] 
وارم سپرنگز، جارجیا  
وجۂ وفات دماغی جریان خون  
طرز وفات طبعی موت  
رہائش نیویارک شہر  
شہریت ریاستہائے متحدہ امریکا  
قد 189 سنٹی میٹر  
استعمال ہاتھ دایاں (رائٹ ہینڈڈ)  
جماعت ڈیموکریٹک پارٹی  
عارضہ پولیو  
تعداد اولاد 6  
عملی زندگی
مادر علمی ہاورڈ کالج
کولمبیا لا اسکول (1904–1907)
کولمبیا یونیورسٹی  
پیشہ وکیل ،  سیاست دان ،  ریاست کار  
مادری زبان انگریزی  
پیشہ ورانہ زبان انگریزی [1]،  جرمن ،  فرانسیسی  
عسکری خدمات
شاخ امریکی مسلح افواج  
لڑائیاں اور جنگیں پہلی جنگ عظیم ،  دوسری جنگ عظیم  
اعزازات
تمغا البرٹ (1941)
ٹائم سال کی شخصیت (1941)
ٹائم سال کی شخصیت (1934)
ٹائم سال کی شخصیت (1932) 
دستخط
 
IMDB پر صفحہ 

جاپانیوں کی حراست

دوسری جنگ عظیم کے دوران میں 19 فروری 1942ء کو روزویلٹ نے صدارتی حکم نامہ 9066 جاری کیا جس کے تحت امریکا میں مقیم ایک لاکھ 20 ہزار جاپانی شہریوں کو گرفتار کر کے حراستی مراکز میں قید کر دیا گیا۔ حالانکہ روزویلٹ کے نامزد کردہ دو کمیشن تحقیقات کر کے اپنی رپورٹ دے چکے تھے کہ امریکا میں موجود جاپانی امریکا کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزویلٹ متعصب تھا۔[8]

سونا ضبط کرنا

روزویلٹ ایک بینکار خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ 5 اپریل 1933ء کو اس نے ایک حکم نامہ 6102 جاری کیا جس کے تحت امریکیوں کا سونا لگ بھگ 20 کاغذی ڈالر فی اونس کے عوض ضبط کر کے ایک نجی ادارے فیڈرل ریزرو کو دے دیا گیا۔ صرف 3 مہینوں بعد معجزانہ طور پر سونے کی قیمت 35 ڈالر فی اونس ہو گئی۔

حوالہ جات

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119835923 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6pc30cw — بنام: Franklin D. Roosevelt — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=897 — بنام: Franklin Delano Roosevelt — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. دا پیرایج پرسن آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=4638&url_prefix=http://www.thepeerage.com/&id=p12668.htm#c126674.1 — بنام: Franklin Delano Roosevelt — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ڈسکوجس آرٹسٹ آئی ڈی: https://www.discogs.com/artist/856289 — بنام: Franklin D. Roosevelt — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. بنام: Franklin D. Roosevelt — فلم پورٹل آئی ڈی: https://www.filmportal.de/39a5713e43e94c6db2234c5457478083 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. فصل: 1 — مصنف: John Lewis Gaddis — عنوان : The Cold War: A New History — اشاعت اول — صفحہ: 10 — ناشر: پینگوئن — ISBN 978-0-14-303827-6
  8. 5 Reasons Franklin D. Roosevelt was the WORST
    This article is issued from Wikipedia. The text is licensed under Creative Commons - Attribution - Sharealike. Additional terms may apply for the media files.