حیدرآباد، دکن

حیدرآباد بھارت کا چوتھا سب سے بڑا شہر ہے۔ اور ریاست تلنگانہ کا صدر مقام ہے۔ ریاست آندھرا پردیش کا بھی دس سال تک یعنی 2024 تک صدر مقام رہے گا۔ حیدرآباد شہر کو بھارت کا دوسرا صدر مقام بھی کہتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ یہاں بھارتی صدر کی دوسری سرکاری رہائش گاہ راشٹراپتی نلیہ (صدر کی رہائش) ہے۔

زیر نظر مضمون بھارتی شہر کے بارے میں ہے۔ مزید دیکھنے کے لیے حیدرآباد دیکھیے۔
حیدرآباد - Hyderabad
حیدرآباد
میٹرو شہر
Clockwise from top left: چار مینار، Skyline at Lanco Hills، حسین ساکر، گولکنڈہ قلع، چومحلہ پیلس اور برلا مندر
عرفیت: موتیوں کا شہر
ملک بھارت
ریاست تلنگانہ
علاقہ دکن
بھارت کے اضلاع ضلع حیدر آباد، ضلع رنگاریڈی اور ضلع میدک
سنہ تاسیس 1591 ء
قائم از محمد قلی قطب شاہ
حکومت
  قسم میئر کونسل
  مجلس عظیم تر بلدیہ حیدرآباد
حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی
  MP بنڈارو دتاترییہاور اسد الدین اویسی
  میئر محمد ماجد حسین
  en:Police commissioner M Mahender Reddy
رقبہ
  میٹرو شہر 650 کلو میٹر2 (250 مربع میل)
  میٹرو 7,100 کلو میٹر2 (2,700 مربع میل)
بلندی 505 میل (1,657 فٹ)
آبادی (2011)
  میٹرو شہر 6,809,970
  درجہ 4th
  کثافت 18,480/کلو میٹر2 (47,900/مربع میل)
  میٹرو 7,749,334
  Metro rank 6th
نام آبادی حیدرآبادی
منطقۂ وقت IST (UTC+5:30)
Pincode(s) 500 xxx, 501 xxx, 502 xxx, 508 xxx, 509 xxx
ٹیلی فون کوڈ +91–40، 8413, 8414, 8415, 8417, 8418, 8453, 8455
گاڑی کی نمبر پلیٹ TS-09, TS-10, TS-11, TS-12, TS-13, TS-14[1]
Official languages تیلگو، اردو
ویب سائٹ www.ghmc.gov.in

تعارف

حیدرآباد دکن ہندوستان کی جنوبی ریاستوں آندھراپردیش اور تلنگانہ کا مشترکہ دار الخلافہ ہے۔ نظام کے دورحکومت میں دار السلطنت رہا ہے۔ حیدرآباد دکن اپنے سنہری تاریخ اور ثقافت کی وجہ سے مشہور ہے۔ حیدرآباد دکن کو موتیوں اور مسلمان نظام بادشاہوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اردو اور تیلگو یہاں کی بولی جانے والی بڑی زبانیں ہیں۔ موجودہ دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور بایوٹیکنالوجی کا مرکز مانا جاتا ہے۔ حیدرآباد کے انفو ٹیک پارک کو “سائبرآباد“ کے نام سے جانا جاتاہے۔

حيدرآباد دكن برطانوی ہندوستان میں الگ ریاست تھی اور وہاں اس كا اپنا سكہ رائج تھا اور اپنی حكومت تھی، ليكن جب 1947ء میں بھارتی حكومت قائم ہوئی تو اس نے دكن كی حكومت كو 1948ء میں ایک فوجی ایکشن کے ذریعہ ہندوستان میں شامل کر لیا۔ حیدرآباد دکن کو 2010ء میں بھارت کا چھٹا بڑا” گنجان آباد شہر(Populous City )“ اور چھٹا بڑا ”گنجان آباد شہری قصبہ(Populous Urban City)“ کا خطاب بھی دیا گیا تھا۔ آبادی تقریباً 70لاکھ ہے– حیدرآباددکن ،اردو تہذیب، تمدن، روایات ادبی ثقافتی اور مذہبی مرکز ہے۔

ابتدائی تاریخ

ریاستِ حیدرآباد دکن جس کا جغرافیائی نقشہ ہر دور میں بدلتا رہا 17ستمبر، 1948ء تک جب ہندوستانی فوجوں نے نظام کی حکومت کا خاتمہ کیا اس وقت تک بھی ایک عظیم رقبہ پر پھیلا ہوا 86 ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا انگلستان اور اسکاٹ لینڈ کے مجموعی رقبے سے بھی زیادہ تھا۔ 1923 ءمیں خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد اگرچیکہ اسلامی مملکتیں جو باقی تھیں سعودی عرب، افغانستان و ایران وغیرہ پر مشتمل تھیں لیکن خوشحالی و شان و شوکت کے لحاظ سے ریاست حیدرآباد کو جو بین الاقومی مقام تھا اس کا ذکر آج بھی انگریز مصنفین کی تصانیف میں موجود ہے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنی سوانح حیات میں تذکرہ کیا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب انگلستان معاشی طور پر دیوالیہ ہو چکا تھا ایسے وقت میں نواب میر عثمان علی خان کے گراں قدر عطیات نے بڑی حد تک سہارا دیا۔ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے پانی اور بجلی کے خرچ بھی ریاستِ حیدرآباد نے اپنے ذمے لے رکھے تھے اور اس عظیم مقصد کے لیے " مدینہ بلڈنگ " کے نام سے شان دار عمارتیں جو آج بھی باقی ہیں مکہ اور مدینہ کے لیے وقف تھیں جن کے کرائے مکہ اور مدینہ کو بھیجے جاتے تھے اس کے علاوہ حاجیوں کو رہنے کے لیے رباط کے نام سے نظام نے مکہ اور مدینہ میں حرمین سے قریب عمارتیں بنوادی تھیں۔ ریاستِ حیدرآباد جس کی تاریخ 13ویں صدی کے آخر میں علأ الدین خلجی کی آمد سے شروع ہو کر بہمنی' شاہی اور آصفجاہی دور تک بیسویں صدی کے نصف تک پھیلی ہوئی ہے۔ موجودہ حیدرآباد تقریباً دو ہزار مربع میل پر مشتمل ایک شہر ہے جس کے باقی حصے ریاستِآندھرا پردیش، کرناٹک اور مہا راشٹر میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ ریاست حیدرآباد کی خصوصیت تھی کہ یہ ہمیشہ امن و آشتی کا علمبردار، ہندو مسلم یکجہتی کی مثال اور علم و ادب نوازی کی ایک ایسی مثال تھا جس کو دنیا تمام کے علمأ و دانشور ،مفکرین و مورخین نے آکر اپنی خدمات سے مزید چار چاند لگائے۔[2]

جغرافیہ اور آبادی

حيدرآباد جنوبی ریاستوں آندھراپردیش اور تلنگانہ کا مشترکہ دار الخلافہ ہے، جس کی آبادی (70) لاکھ[3] ہے–

نظم و نسق

حیدرآباد شہر میں 1870ء میں ہی میونسپلٹی کی طرح نظم و نسق کا آغاز ہوا۔ شہر پر حکمرانی کرنے والے آصف جاہی حکمرانوں نے کچھ علاقوں کو علاحدہ کر کے چادرگھاٹ کو مخصوص میونسپلٹی کی مانند تشکیل دیا۔ موجودہ حیدرآباد سے متعلق مکمل تفصیلات ضلع حیدرآباد آفیشل ویب سائیٹ پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔

صنعتیں

انفارمیشن ٹکنالوجی اور بی پی او مرکز کے طورپر شہرت پا رہا ہے۔ غیر ممالک سے آؤٹ سورسنگ صنعتیں آ رہی ہیں۔ ٹکسٹائلز، پلاسٹک، شیشہ سازی وغیرہ کی صنعتیں معروف ہیں۔ پرانے شہر کا زری کا کام قابلِ دید ہے ۔

جامعات

نظامِ ہفتم نواب میر عثمان علی خاں نے 1918ء میں جامعہ عثمانیہ ( عثمانیہ یونیورسٹی ) قائم کی۔ علاوہ ازیں شہر میں کئی مرکزی اور ریاستی یونیورسٹیوں قائم ہیں۔ جن میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی، تلگو یونیورسٹی، جواہر لال نہروٹکنالوجیکل یونیورسٹی، اچاریہ این جی آر ایگریکلچرل یونیورسٹی، انگلش اینڈفارن لینگویج یونیورسٹی وغیرہ شامل ہیں۔

تعمیرات اورسیاحتی مقامات

شہر حیدرآباد میں دیکھنے لائق کئی تعمیرات ہیں، جن میں مشہور چار مینار سب سے اہم ہے۔ چند اور مقامات حسب ذیل ہیں۔

موسم

حیدرٱباد کا موسم سال بھرمين معتدل مگر قدرےگرم رہتا ہے ·برسات کے مؤسم مین بھی بارش بھت کم مقدار مین پڑھتی ہے·دسمبر کے مہینے مين درجہ حرارت مین تھوڑی سی گراوٹ ہو جاتی ہے·

سانچہ:Hyderabad, India weatherbox

صنعت

انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اہم مرکز ہے۔ حیدرآباد کے انفو ٹیک پارک کو “سائبرآباد“ کے نام سے جانا جاتاہے۔

تجارت

کئی بھارتی شہروں کی طرح حیدرآباد میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں ایک اعلی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تہذیب و ثقافت

حیدرآباد اپنی گنگا جمنی تہذیب کے لیے جانا جاتا ہے۔ نظام دکن نے حیدرآباد کے ہندواور مسلمانوں کواپنی دوآنکھوں سے تعبیرکیا تھا۔ حیدرآباد، اردو تہذیب، تمدن، روایات۔ ادبی ثقافتی اور مذہبی مرکز ہے۔

حیدرآباد میں اردو کتب خانے

  • مکہ مسجد کتب خانہ اسلامیات
  • مولانا آزاد ریسرچ انسٹیٹوٹ

نگار خانہ

ََ

حوالہ جات

  1. "District Codes"۔ Government of Telangana Transport Department۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 ستمبر 2014۔
  2. Taemeer News: زوال حیدرآباد کی کہانی
  3. http://www.ruaf.org/node/507

بیرونی روابط

This article is issued from Wikipedia. The text is licensed under Creative Commons - Attribution - Sharealike. Additional terms may apply for the media files.