تاجکستان

جمہوریہ تاجکستان (تاجک: جمہوری توجکستون) وسط ایشیا کا ایک خشکی میں گھرا ہوا (landlocked) ملک ہے۔ اس کی سرحدیں جنوب میں افغانستان، مغرب میں ازبکستان، شمال میں کرغزستان اور مشرق میں چین سے ملتی ہیں۔ یہ تاجک نسل کے باشندوں کا وطن ہے، جن کی ثقافتی و تاریخی جڑیں ایران میں پیوست ہیں اور یہ فارسی سے انتہائی قربت رکھنے والی زبان تاجک بولتے ہیں۔ سامانی سلطنت کا گہوارہ رہنے والی یہ سرزمین 20 ویں صدی میں سوویت اتحاد کی باضابطہ جمہوریہ رہی جسے تاجک سوویت اشتراکی جمہوریہ (Tajik Soviet Socialist Republic) کہا جاتا تھا۔

  

تاجکستان
تاجکستان
پرچم
تاجکستان
نشان

 

ترانہ:سرود ملی تاجکستان  
زمین و آبادی
متناسقات 38.583333°N 71.366667°E / 38.583333; 71.366667   [1]
بلند مقام کوہ اسماعیل سامانی  
پست مقام دریائے سیحوں (300 میٹر ) 
رقبہ 143100.0 مربع کلومیٹر  
دارالحکومت دوشنبہ  
سرکاری زبان تاجک زبان  
آبادی 8921343 (2017)[2] 
اوسط عمر
65.053 سال (1999)[3]
65.485 سال (2000)[3]
65.894 سال (2001)[3]
66.303 سال (2002)[3]
66.727 سال (2003)[3]
67.163 سال (2004)[3]
67.607 سال (2005)[3]
68.052 سال (2006)[3]
68.487 سال (2007)[3]
68.902 سال (2008)[3]
69.29 سال (2009)[3]
69.644 سال (2010)[3]
69.958 سال (2011)[3]
70.234 سال (2012)[3]
70.477 سال (2013)[3]
70.69 سال (2014)[3]
70.879 سال (2015)[3]
71.051 سال (2016)[3] 
حکمران
صدر تاجکستان   ایمانعلی رحمان  
وزیر اعظم تاجکستان   قاہر رسول زادہ (23 نومبر 2013–) 
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 1991 
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر 18 سال  
الحاق اور رکنیت
مشترکہ سرحدیں
ازبکستان (Tajikistan–Uzbekistan border )
کرغیزستان (Kyrgyzstan–Tajikistan border )
عوامی جمہوریہ چین (China–Tajikistan border )
افغانستان (Afghanistan–Tajikistan border ) 
خام ملکی پیداوار
  کل
7145701018.7492 امریکی ڈالر (2017)[10] 
  فی کس 2365.921 بین الاقوامی ڈالر (1990)[11] 
جی ڈی پی تخمینہ
  فی کس 497 امریکی ڈالر (1990)[12]
469 امریکی ڈالر (1991)[12]
346 امریکی ڈالر (1992)[12]
291 امریکی ڈالر (1993)[12]
267 امریکی ڈالر (1994)[12]
213 امریکی ڈالر (1995)[12]
178 امریکی ڈالر (1996)[12]
155 امریکی ڈالر (1997)[12]
219 امریکی ڈالر (1998)[12]
177 امریکی ڈالر (1999)[12]
138 امریکی ڈالر (2000)[12]
170 امریکی ڈالر (2001)[12]
189 امریکی ڈالر (2002)[12]
236 امریکی ڈالر (2003)[12]
309 امریکی ڈالر (2004)[12]
337 امریکی ڈالر (2005)[12]
404 امریکی ڈالر (2006)[12]
520 امریکی ڈالر (2007)[12]
706 امریکی ڈالر (2008)[12]
666 امریکی ڈالر (2009)[12]
738 امریکی ڈالر (2010)[12]
834 امریکی ڈالر (2011)[12]
954 امریکی ڈالر (2012)[12]
1040 امریکی ڈالر (2013)[12]
1104 امریکی ڈالر (2014)[12]
918 امریکی ڈالر (2015)[12]
795 امریکی ڈالر (2016)[12]
801 امریکی ڈالر (2017)[12] 
کل ذخائر 38865840 امریکی ڈالر (1997)[13]
55881641 امریکی ڈالر (1998)[13]
57433087 امریکی ڈالر (1999)[13]
94280872 امریکی ڈالر (2000)[13]
94282881 امریکی ڈالر (2001)[13]
89508814 امریکی ڈالر (2002)[13]
117567951 امریکی ڈالر (2003)[13]
172081998 امریکی ڈالر (2004)[13]
188914218 امریکی ڈالر (2005)[13]
203823175 امریکی ڈالر (2006)[13]
85217547 امریکی ڈالر (2007)[13]
163514282 امریکی ڈالر (2008)[13]
254940274 امریکی ڈالر (2009)[13]
403106502 امریکی ڈالر (2010)[13]
518942426 امریکی ڈالر (2011)[13]
630690458 امریکی ڈالر (2012)[13]
661311930 امریکی ڈالر (2013)[13]
512645378 امریکی ڈالر (2014)[13]
493391420 امریکی ڈالر (2015)[13]
644763395 امریکی ڈالر (2016)[13]
1291955730 امریکی ڈالر (2017)[13] 
اشاریہ انسانی ترقی
اشاریے
0.650 (2017)[14] 
شرح بے روزگاری 11 فیصد (2014)[15] 
دیگر اعداد و شمار
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت+05:00  
ٹریفک سمت دائیں [16] 
ڈومین نیم tj.  
آیزو 3166-1 الفا-2 TJ 
بین الاقوامی فون کوڈ +992 

سوویت اتحاد سے آزادی ملنے کے بعد تاجکستان 1992ء سے 1997ء تک زبردست خانہ جنگی کا شکار رہا۔ خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سیاسی استحکام، غیر ملکی امداد اور ملک کے دو بڑے قدرتی ذرائع کپاس اور المونیم نے ملکی معیشت کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا۔

نام

تاجکستان کا مطلب ہے "تاجکوں کا وطن" جیسا کہ ایران اور اس سے ملحقہ بیشتر ممالک کے ناموں کے ساتھ "استان" لگتا ہے جیسے پاکستان، افغانستان وغیرہ۔

تاریخ

یہ سرزمین، جہاں اب تاجکستان واقع ہے، 4 ہزار قبل مسیح سے مستقل آباد ہے۔ یہ علاقہ تاریخ میں مختلف سلطنتوں کے زیر نگیں رہا ہے۔ قبل از مسیح میں یہ علاقہ باختر کی سلطنت کا حصہ تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں اسلام یہاں بھی داخل ہوا۔ عباسی دور کے آخر میں جب سلطنت اسلامیہ کے مختلف حصوں میں نئی ریاستیں وجود میں آئیں تو اولین ریاستوں میں سے ایک ریاست سامانی سلطنت یہاں وجود میں آئی تھی جس نے سمرقند اور بخارا کے شہر بنائے جو تاجکوں کے ثقافتی مراکز بنے۔ بعد ازاں منگولوں نے وسط ایشیا پر عارضی طور پر قبضہ کیا۔ سلطنت روس کا حصہ بننے سے پہلے یہ علاقہ امارت بخارا میں شامل تھا۔

19 ویں صدی میں سلطنت روس نے وسط ایشیا پر اپنے پنجے گاڑنا شروع کیے اور تاجکستان پر بھی قبضہ کر لیا۔ 1917ء میں زار روس کی سلطنت کے خاتمے کے بعد وسط ایشیا میں بسماچی تحریک کا آغاز ہوا جنہوں نے آزادی کے لیے سرخ افواج کے خلاف زبردست مزاحمت کی۔ لیکن اس تحریک کو کچل دیا گیا اور یہ علاقہ سوویت اتحاد کا حصہ بن گیا۔ اشتراکی دور میں یہاں مذہب بالخصوص اسلام کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا اور مساجد و عبادت گاہوں کو بند کر دیا گیا۔

قیام جمہوریہ

1924ء میں تاجک خود مختار اشتراکی جمہوریہ کا قیام عمل میں لایا گیا جو ازبکستان کا حصہ تھی لیکن 1929ء میں تاجک سوویت اشتراکی جمہوریہ کو دستوری جمہوریہ کے طور پر الگ کیا گیا۔ ماسکو نے وسط ایشیا کی ریاستوں میں سب سے کم تاجکستان پر توجہ دی اور یہ طرز زندگی، تعلیم اور صنعت میں وسط ایشیا کی تمام ریاستوں میں سب سے پیچھے رہی۔ 1970ء کی دہائی میں مختلف نظریات کی حامل خفیہ اسلامی جماعتیں قائم ہوئیں اور 1980ء کی دہائی کے اواخر میں تاجک قوم پرستوں نے اضافی حقوق دینے کا مطالبہ کیا۔ 1990ء تک علاقے میں بڑے پیمانے پر گڑ بڑ پیدا نہیں ہوئی۔ اگلے ہی سال سوویت اتحاد ٹوٹ گیا اور تاجکستان نے آزادی کا اعلان کر دیا۔

آزادی کے فوراً بعد ملک بد ترین خانہ جنگی کا شکار ہوا جس میں مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے قبائل آمنے سامنے ہو گئے۔ اس عہد میں غیر مسلم آبادی، جو زیادہ تر روسیوں اور یہودیوں پر مشتمل تھی، ایذا رسانی کے خوف، بڑھتی ہوئی غربت اور مغرب میں بہتر اقتصادی مواقع ملنے کے باعث ملک سے فرار ہو گئی۔ 1992ء میں امام علی رحمانوف بر سر اقتدار آئے اور اب تک ملک کے حکمران ہیں۔ 1997ء میں رحمانوف اور حزب مخالف کی جماعتوں (تاجک متحدہ حزب اختلاف) کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔ 1999ء میں پر امن انتخابات کا انعقاد ہوا اور رحمانوف ایک مرتبہ پھر ملک کے صدر قرار پائے۔ حزب مخالف نے ان انتخابات کو غیر منصفانہ قرار دیا۔

افغانستان کے ساتھ سرحد کی حفاظت کے لیے روسی افواج موسم گرما 2005ء تک ملک میں موجود رہیں۔ 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد سے امریکی و فرانسیسی افواج اس ملک میں موجود ہیں۔

جغرافیہ

خلا سے تاجکستان کا منظر

تاجکستان چاروں طرف سے خشکی میں گھرا ہوا ہے اور رقبے کے لحاظ سے وسط ایشیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ سلسلہ کوہ پامیر اس ملک کے بیشتر حصے پر پھیلا ہوا ہے اور ملک کا پچاس فیصد سے زائد کا علاقہ سطح سمندر سے 3 ہزار میٹر (تقریباً 10 ہزار فٹ) سے اونچا ہے۔ کم بلند زمین کا واحد علاقہ شمال میں وادی فرغانہ اور جنوبی کافرنگان اور وخش کی وادیاں ہیں جو آمو دریا کو تشکیل دیتی ہیں اور یہاں بارشیں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ دوشنبہ جنوبی ڈھلوانوں پر وادی کافرنگان کے اوپر واقع ہے۔

آمو دریا اور پنج دریا افغانستان کے ساتھ سرحد تشکیل دیتے ہیں۔ کوہ اسماعیل سامانی (7495 میٹر)، کوہ آزادی (7174 میٹر) اور کوہ ابن سینا (6974 میٹر) ملک کی تین بڑی چوٹیاں ہیں۔

انتظامی تقسیم

ملک مختلف خطوں یا صوبوں میں تقسیم ہے جنہیں ولایت (تاجک: ولویت) کہا جاتا ہے۔

1۔ سغد ولایتی (خوقند)

2۔ دوشنبہ میں قومی حکومت کے زیر انتظام علاقہ، جن میں کوئی ولایتی سطح کی انتظامی تقسیم نہیں۔

3۔ خطلون ولایتی

4۔ ولایتی مختاری کوہستانی بدخشاں (Gorno-Badakhshan Autonomous Province)

بیرونی علاقے

تاجکستان کے تین بیرونی علاقے (exclave) بھی ہیں جو وادی فرغانہ میں واقع ہیں جہاں کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان آپس میں ملتے ہیں۔ ان بیرونی علاقوں میں سب سے بڑا وروخ ہے جس کی آبادی 23 سے 29 ہزار ہے جس میں سے 95 فیصد تاجک اور 5 فیصد کرغز ہیں۔ یہ علاقہ کرغز علاقے میں اسفارا سے 45 کلومیٹر جنوب میں دریائے کرفشیں کے کنارے واقع ہے۔ دونوں بیرونی علاقہ کرغزستان میں کائراغچ کے ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک چھوٹی سی آبادی ہے جبکہ آخری سروان کا کاؤں ہے جو ایک زمین کا ایک چھوٹا سا قطعہ ہے (15 کلومیٹر طویل اور ایک کلومیٹر عریض) جو انگرین سے خوقند کے درمیانی راستے پر واقع ہے۔

تاجکستان میں کوئی اندرونی علاقہ (enclave) نہیں۔

سیاست

صدر امام علی رحمانوف

آزادی کے فوراً بعد تاجکستان مختلف فریقین کے درمیان لڑائی کے باعث خانہ جنگی کا شکار بن گیا، جنہیں مبینہ طور پر ایران اور روس کی حمایت حاصل تھی۔ خانہ جنگی کے دوران تمام 4 لاکھ روسی باشندے، سوائے 25 ہزار کے، اس علاقے سے روس چلے گئے۔ 1997ء میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا اور 1999ء میں پر امن انتخابات کے ذریعے مرکزی حکومت قائم ہوئی۔

تاجکستان باضابطہ طور پر ایک جمہوریہ ہے جہاں صدر اور پارلیمان منتخب کرنے کے لیے انتخابات منعقد ہوتے ہیں۔ آخری انتخابات 2005ء میں ہوئے اور گزشتہ تمام انتخابات کی طرح ان انتخابات کو بھی بین الاقوامی مبصرین نے غیر منصفانہ قرار دیا۔

حزب اختلاف کی کئی اہم جماعتوں نے 6 نومبر 2006ء کو ہونے والے انتخابات کا مقاطعہ کیا جن میں 23 ہزار اراکین پر مشتمل اسلامی نشاۃ ثانیہ پارٹی بھی شامل تھی۔ تاجکستان اس وقت تک وسط ایشیا کا واحد ملک ہے جہاں متحرک حزب اختلاف موجود ہے۔ پارلیمان میں حزب اختلاف کے اراکین کا بسا اوقات حکومتی اراکین سے تصادم ہوتا رہتا ہے تاہم اس سے بڑے پیمانے پر کوئی عدم استحکام پیدا نہیں ہوا۔

معیشت

تاجکستان اشتراکی عہد ہی سے دیگر ریاستوں کے مقابلے میں ایک غریب ریاست تھی اور آزادی کے فوری بعد خانہ جنگی نے اس کی معیشت کو لب گور پہنچا دیا۔ 2000ء میں بحالی کے منصوبوں کی مدد کے کا سب سے اہم ذریعہ بین الاقوامی امداد ہی تھی۔ بین الاقوامی امداد نے خطے میں غذائی پیداوار کی مسلسل کمی اور قحط کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ 21 اگست 2001ء کو صلیب احمر نے اعلان کیا کہ قحط تاجکستان کو نشانہ بنا رہا ہے اور تاجکستان اور ازبکستان کے لیے بین الاقوامی امداد کا مطالبہ کیا۔

خانہ جنگی کے بعد تاجکستان معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2000ء سے 2004ء کے درمیان تاجکستان کے جی ڈی پی میں 9.6 فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔

تا جکستان کی معیشت میں آمدنی کے بنیادی ذرائع ایلومینیم کی پیداوار،کپاس کی کاشت اور بیرون ملک مقیم تاجک باشندوں کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر ہیں۔ تاجکستان کے جی ڈی پی کا تقریباً 47 فیصد حصہ بیرون ملک سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر سے آتا ہے۔ بیرون ملک مقیم باشندوں میں 90 فیصد روس میں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ملک کا صرف 7فیصد رقبہ قابل کاشت ہے اور کپاس سب سے اہم زرعی پیداوار ہے۔ اس کے علاوہ اجناس ،پھلوں اور سبزیوں کی کاشت بھی ہوتی ہے۔ تاجکستان اپنی خوراک کی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے۔ معدنیات میں سونا،چاندی،یورینیم اور ایلومینیم زیادہ اہم ہیں۔ ایلومینیم کی صنعت حکومتی تحویل میں ہے اور تاجکستان کا ایلومینیم پلانٹ وسطی ایشیا میں سب سے بڑا پلانٹ ہے۔

آبادیات

تاجکستان کی آبادی جولائی 2006ء کے اندازوں کے مطابق 7،320،815 ہے۔ سب سے بڑا نسلی گروہ تاجک ہے، جبکہ ازبک باشندوں کی بڑی تعداد بھی تاجکستان میں رہائش پزیر ہے۔ روسیوں کی تھوڑی سی آبادی بھی یہاں رہتی ہے جو ہجرت کے باعث کم ہوتی جا رہی ہے۔ ملک کی باضابطہ زبان تاجک فارسی ہے جبکہ کاروباری و حکومتی معاملات میں روسی زبان بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ غربت کے باوجود تاجکستان میں خواندگی کی شرح بہت زیادہ ہے اور تقریباً 98 فیصد آبادی لکھنے و پڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ملک کی اکثر آبادی اسلام کی پیروی کرتی ہے جن میں سنی بہت بڑی اکثریت میں ہیں جبکہ شیعہ مختصر اقلیت میں ہیں۔ بخاری یہودی دوسری صدی قبل مسیح سے اس علاقے میں رہتے ہیں تاہم آج ان کی تعداد چند سو ہی ہے۔

مذہب

اسلام، پورے وسطی ایشیا میں ساتویں صدی عیسوی سے، جب سے عربوں کے ذریعے یہاں اسلام پہنچا، اہم مذہب ہے۔ اسلام تب سے تاجکی ثقافت کا حصہ بن چکا ہے تاجکستان ایک سیکولر ملک ہے،[17] سوویت دور کے دوران میں، معاشرے کو مذہب بے زار کرنے کی کوششوں کو بڑی حد تک ناکام ملی اور سوویت دور کے بعد مذہبی رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ۔ تاجکستان کے مسلمانوں کی اکثریت سنی اسلام پر عمل کرتی ہے اور اسماعیلی نزارے شیعیون کی بھی ایک معمولی تعداد موجوھ ہے۔ تاجکستان میں دوسرا بڑا مذہب روسی راسخ الاعتقاد کلیسیا ہے، اگرچہ 1990ء کی دہائی کی ابتدا میں ان کی تعداد کم ہوئی۔ کچھ دیگر مسیحی فرقے بھی معمولی تعداد میں موجود ہیں جب کہ یہودیوں کی بھی مختصر تعداد ہے۔[18]

حوالہ جات

  1.   "صفحہ تاجکستان في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 اگست 2019۔
  2. https://data.worldbank.org/indicator/SP.POP.TOTL — اخذ شدہ بتاریخ: 8 اپریل 2019 — ناشر: عالمی بنک
  3. http://data.uis.unesco.org/Index.aspx?DataSetCode=DEMO_DS
  4. http://eng.sectsco.org/about_sco/ — اخذ شدہ بتاریخ: 8 دسمبر 2017 — ناشر: شنگھائی تعاون تنظیم
  5. https://www.interpol.int/Member-countries/World — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: انٹرپول
  6. https://www.opcw.org/about-opcw/member-states/ — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار
  7. http://www.unesco.org/eri/cp/ListeMS_Indicators.asp
  8. http://www.upu.int/en/the-upu/member-countries.html — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  9. https://www.itu.int/online/mm/scripts/gensel8 — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  10. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.MKTP.CD?locations=TJ — اخذ شدہ بتاریخ: 21 اکتوبر 2018 — ناشر: عالمی بنک
  11. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.PP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 11 جون 2019 — ناشر: عالمی بنک
  12. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 27 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  13. https://data.worldbank.org/indicator/FI.RES.TOTL.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  14. http://hdr.undp.org/en/data — ناشر: United Nations Development Programme
  15. http://data.worldbank.org/indicator/SL.UEM.TOTL.ZS
  16. http://chartsbin.com/view/edr
  17. Tajikistan Constitution
  18. http://lcweb2.loc.gov/frd/cs/tjtoc.html This article incorporates text from this source, which is in the دائرہ عام۔
This article is issued from Wikipedia. The text is licensed under Creative Commons - Attribution - Sharealike. Additional terms may apply for the media files.