باکو

باکو (انگریزی: Baku،آذری: Bakı) آذربائیجان کا شہر ہے۔ یہ 40.395278 درجے شمال، 49.882222 درجے مشرق پر واقع ہے۔ اس کا رقبہ 2,130 مربع کلومیٹر ( 822.4 مربع میل ) ہے۔ آبادی 2008ء میں 19 لاکھ 70 ہزار تھی۔ سطح سمندر سے بلندی منفی 28 میٹر (-92 فٹ) ہے یعنی یہ اوسطاً سطح سمندر سے بھی نچلی سطح پر واقع ہے۔ موجودہ ناظم کا نام حاجی بالا ابوطالبوف ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ ایک بڑا شہر ہے۔ یہ آذربائیجان کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ بحیرہ کیسپیئن کے کنارے واقع ہے۔ باکو تیل کی دولت سے مالا مال علاقے میں واقع ہونے کے باعث تیل کی صنعتوں کا مرکز ہے۔ شہر 11 اضلاع اور 48 قصبہ جات میں تقسیم ہے۔ باکو کے وسط میں قدیم شہر واقع ہے جس کے گرد فصیل ہے۔ دسمبر 2000ء میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ شطرنج کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی گیری کیسپاروف کا تعلق اسی شہر سے ہے۔

  

باکو
(آذربائیجانی میں: Bakı) 
 

باکو
پرچم
باکو
نشان

تاریخ تاسیس صدی 1 
  نقشہ

انتظامی تقسیم
ملک سلطنت روس (24 اکتوبر 1813–1 مارچ 1917)
روسی جمہوریہ (2 مارچ 1917–10 نومبر 1917)
ماورائے قفقازی وفاقی جمہوری جمہوریہ (22 اپریل 1918–25 مئی 1918)
آذربائیجان جمہوری جمہوریہ (28 مئی 1918–27 اپریل 1920)
آذربائیجان سوویت اشتراکی جمہوریہ (28 اپریل 1920–29 دسمبر 1922)
سوویت اتحاد (30 دسمبر 1922–29 اگست 1991)
آذربائیجان (30 اگست 1991–)  [1][2]
دارالحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ حکومت باکو ،  آذربائیجان سوویت اشتراکی جمہوریہ ،  آذربائیجان  
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 40.366655555556°N 49.835183333333°E / 40.366655555556; 49.835183333333   [3]
رقبہ 2130 مربع کلومیٹر  
بلندی -28 میٹر  
آبادی
کل آبادی 2181800 (2014) 
مزید معلومات
جڑواں شہر
اوقات متناسق عالمی وقت+04:00  
گاڑی نمبر پلیٹ
10
90
99 
رمزِ ڈاک
AZ1000 
فون کوڈ 12 
آیزو 3166-2 AZ-BA 
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ 
جیو رمز 587081 
[مکمل اسکرین پر]

تاریخ

باکو کا نام فارسی لفظ بادکوبہ (ہواؤں کا مارا ہوا) سے مشتق ہے اور اس کے محل وقوع کے لحاظ سے بہت موزوں ہے۔ قرون وسطٰی کے مورخین اسے باکویہ، بلاکوہ اور باکہ بھی لکھتے ہیں۔ تاریخ میں اس کا ذکر تیسری صدی ہجری کے بعد برابر آتا ہے۔ باکو عرصے تک شاہان شیروان کے ماتحت رہا۔ 1550ء میں صفوی سلطان طہماسپ اول کا اس پر قبضہ ہو گیا۔ 1583ء تا 1660ء یہ شہر عثمانی ترکوں کے ماتحت رہا۔ 1806ء میں روسیوں نے اسے ایرانیوں سے چھین لیا۔

باکو کا ایک قدیم قلعہ

جزیرہ نما آبشاران سے پہلی مرتبہ مشینوں کے ذریعے 1842ء میں تیل نکالا گیا۔ 1877ء میں یہاں ریلوے لائن بچھائی گئی۔ 1907ء میں باکو سے باطوم (بحیرہ اسود) تک تیل کی پائپ لائن مکمل ہو گئی اور معدنی تیل برآمد ہونے لگا۔ روسی انقلاب کے بعد 31 جولائی 1918ء سے 28 اپریل 1920ء تک باکو آزاد مملکت آذربائیجان کا دار الحکومت رہا، پھر سرخ فوج نے اس پر قبضہ کر لیا۔ دسمبر 1991ء میں سقوط روس کے بعد باکو آزاد جمہوریہ آذربائیجان کا صدر مقام بن گیا۔ باکو کے قریب پارسیوں (مجوسیوں) کا آتش کدہ آج بھی قائم ہے۔ مجوسی مذہب کے بانی زرتشت کا تعلق آذربائیجان ہی سے تھا۔

متعلقہ مضامین

نگار خانہ

باکو
  1.  "صفحہ باکو في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اگست 2019۔
  2.   "صفحہ باکو في ميوزك برينز."۔ MusicBrainz area ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اگست 2019۔
  3.   "صفحہ باکو في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اگست 2019۔
  4. https://www.izmir.bel.tr/tr/KardesKentler/62
This article is issued from Wikipedia. The text is licensed under Creative Commons - Attribution - Sharealike. Additional terms may apply for the media files.