اقوام متحدہ

25 اپریل، 1945ء سے 26 جون، 1945ء تک سان فرانسسکو، امریکا میں پچاس ملکوں کے نمائندوں کی ایک کانفرس منعقد ہوئی۔ اس کانفرس میں ایک بین الاقوامی ادارے کے قیام پر غور کیا گیا۔ چنانچہ اقوام متحدہ یا United Nations کا منشور یا چارٹر مرتب کیا گیا۔ لیکن اقوام متحدہ 24 اکتوبر، 1945ء میں معرض وجود میں آئی۔

اقوام متحدہ
پرچم نشان
صدر دفتر نیویارک شہر میں بین الاقوامی علاقہ
دفتری زبانیں عربی ، چینی ، انگریزی ، فرانسیسی ، روسی ، ہسپانوی
رکنیت 193رکن ممالک
رہنما
انٹونیو گوٹیرش
ماریا فرنینڈا ایسپینوسا
قیام
 اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط
26 جون 1945
 چارٹر کا بین الاقوامی اطلاق
24 اکتوبر 1945
ویب سائٹ
www.un.org

اقوام متحدہ یا United Nations Organisation کا نام امریکا کے سابق صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے تجویز کیا تھا۔

منشور اور مقاصد

1945 میں اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخطوں کی تقریب ، سان فرانسسکو، امریکا

اس کے چارٹر کی تمہید میں لکھا ہے کہ

  1. ہم اقوام متحدہ کے لوگوں نے مصمم ارادہ کیا ہے کہ آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچائیں گے۔
  2. انسانوں کے بنیادی حقوق پر دوبارہ ایمان لائیں گے اور انسانی اقدار کی عزت اور قدرومنزلت کریں گے۔
  3. مرد اور عورت کے حقوق برابر ہوں گے۔ اور چھوٹی بڑی قوموں کے حقوق برابر ہوں گے۔
  4. ایسے حالات پیدا کریں گے کہ عہد ناموں اور بین الاقوامی آئین کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو نبھایا جائے۔ آزادی کی ایک وسیع فضا میں اجتماعی ترقی کی رفتار بڑھے اور زندگی کا معیار بلند ہو۔
لہذا
  • یہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے رواداری اختیار کریں۔
  • ہمسایوں سے پر امن زندگی بسر کریں۔
  • بین الاقوامی امن اور تحفظ کی خاطر اپنی طاقت متحد کریں۔ نیز اصولوں اور روایتوں کو قبول کر سکیں اس بات کا یقین دلائیں کی مشترکہ مفاد کے سوا کبھی طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔
  • تمام اقوام عالم اقتصادی اور اجتماعی ترقی کی خاطر بین الاقوامی ذرائع اختیار کریں۔

مقاصد

اقوام متحدہ کی شق نمبر 1 کے تحت اقوام متحدہ کے مقاصد درج ذیل ہیں۔

  1. مشترکہ مساعی سے بین الاقوامی امن اور تحفظ قائم کرنا۔
  2. قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو بڑھانا۔
  3. بین الاقوامی اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور انسانوں کو بہتری سے متعلق گتھیوں کو سلجھانے کی خاطر بین الاقوامی تعاون پیدا کرنا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے لیے لوگوں کے دلوں میں عزت پیدا کرنا۔
  4. ایک ایسا مرکز پیدا کرنا جس کے ذریعے قومیں رابطہ عمل پیدا کر کے ان مشترکہ مقاصد کو حاصل کر سکیں۔
  5. آرٹیکل نمبر 2 کے تحت تمام رکن ممالک کو مرتبہ برابری کی بنیاد پر ہے۔

رکنیت

ہر امن پسند ملک جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی شرائط تسلیم کرے اور ادارہ کی نظر میں وہ ملک ان شرائط کو پورا کر سکے اور اقوام متحدہ کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے تیار ہو برابری کی بنیاد پر اقوام متحدہ کا رکن بن سکتا ہے۔ شروع شروع میں اس کے صرف 51 ممبر تھے۔ بعد میں بڑھتے گئے۔ سیکورٹی کونسل یا سلامتی کونسل کی سفارش پر جنرل اسمبلی اراکین کو معطل یا خارج کر سکتی ہے۔ اور اگر کوئی رکن چارٹر کی مسلسل خلاف ورزی کرے اسے خارج کیا جا سکتا ہے۔ سلامتی کونسل معطل شدہ اراکین کے حقوق رکنیت کو بحال کر سکتی ہے۔ اس وقت اس کے ارکان ممالک کی تعداد 193 ہے۔ تفصیلی فہرست کے لیے دیکھیے : اقوام متحدہ کے رکن ممالک۔

اعضاء

اقوام متحدہ کے 6 اعضاء ہیں

  1. جنرل اسمبلی
  2. سلامتی کونسل
  3. اقتصادی و سماجی کونسل
  4. سرپرستی کونسل
  5. بین الاقوامی عدالت انصاف
  6. سیکریٹریٹ
اقوام متحدہ کے بنیادی اعضاء [1]
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی
 اقوام متحدہ کے تمام اراکین ممالک کی مشترکہ اسمبلی  
اقوام متحدہ سیکریٹریٹ
 اقوام متحدہ کی انتظامی اکائی 
بین الاقوامی عدالت انصاف
 بین الاقوامی قوانین کی عدالت 
  • امن و امان کے خاطر بین الاقوامی اصولوں پر غور کرنا اور اس ضمن میں اپنی سفارشات پیش کرنا۔
  • اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کے سفارشات کے بعد جنرل اسمبلی یہ فیصلہ کریگی کہ نئے ریاست(وں) کو رکنیت دینا ہے یا نہیں;
  • مخصوص اداروں کے بجٹ کی جانچ پڑتال کرنا وغیرہ;
  • سلامتی کونسل کے دس غیر مستقل ارکان کا انتخاب کرنا، ہر ملک کا ایک ووٹ ہوتا ہے۔
  • انٹظامی طور پر اقوام متحدہ کی دیگر اعضاء کے ساتھ تعاون کرتا ہے (مثلاََ کسی کانفرنس کا انعقاد کرنا،مختلف رپورٹ وغیرہ پیش کرنا اور بجٹ کی تیاری اس کے اہم کاموں میں شامل ہیں)۔
  • اس کا چیئرمین کا انتخاب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کرتی ہے جس کی مدت پانچ سال ہوتی ہے۔یہ چیئرمین درحقیقت اقوام متحدہ کا سب سے اعلیٰ نمائندہ ہوتا ہے۔
  • ان تمام ریاستوں کے درمیان تنازعات پر اپنا فیصلہ سناتا ہے جو ریاستیں اس کے قوانین کو تسلیم کرتے ہیں۔
  • قانونی رائے پیش کرتا ہے
  • بین الا قوامی عدالت پندرہ (15) جج صاحبان پر مشتمل ہے۔ عدالت کی ان ممبران کو جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل آزاد رائے شماری کے زریعی نو سال کے لیے منتخب کرتی ہے۔
سلامتی کونسل
 بین الاقوامی حفاظتی معاملات کے لیے 
اقوام متحدہ اقتصادی اور سماجی کونسل
 عالمی اقتصادی اور سماجی امور کے لیے 
ٹرسٹی شپ کونسل
 ٹرسٹ علاقہ جات کے انتظام کے لیے (فی الحال یہ غیر فعال ہے) 
  • سیکیورٹی کونسل کی ذمہ داری بین الاقوامی یا قوام متحدہ کے قوانین کے مطابق دنیا بھر میں امن اور سلامتی قائم رکھنا؛
  • بہت زیادہ اہم قرارداد پیش کرسکتا ہے
  • اس کے کل 15 اراکین ہیں جن میں سے پانچ مستقل اور دس منتخب شدہ ہوتے ہیں.
  • اس کے اہم کاموں میں مختلف ریاستوں میں اقتصادی اور معاشرتی معاملات پر تعاون پیدا کرنا ہے؛
  • یہ اقوام متحدہ کے مختلف خصوصی ایجنسیوں کو آپریٹ کرتا ہے۔
  • اس کونسل کے 54 اراکین ہیں جن کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی منتخب کرتی ہے۔
  • اصل میں یہ نوآبادکاری کے انتظامات کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
  • اسے 1994 کے بعد غیر فعال کر دیا گیا ، جب آخری غیرمختار علاقے پلاؤ نے آزادی حاصل کی۔

جنرل اسمبلی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہال

جنرل اسمبلی تمام رکن ممالک پر مشتمل ہوتی ہے۔ ہر رکن ملک اسمبلی میں زیادہ سے زیادہ پانچ نمائندے بھیج سکتا ہے۔ ایسے نمائندوں کا انتخاب ملک خود کرتا ہے۔ ہر رکن ملک کو صرف ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔

جنرل اسمبلی کا معمول کا اجلاس سال میں ایک دفعہ ماہ ستمبر کے تیسرے منگل کو شروع ہوتا ہے، تاہم اگر سلامتی کونسل چاہے یا اقوام متحدہ کے اراکین کی اکثریت کہے تو جنرل اسمبلی کا خاص اجلاس کسی اور وقت میں بھی بلایا جا سکتا ہے۔

کمیٹیاں

جنرل اسمبلی کا کام سر انجام دینے کے لیے چھ کمیٹیاں بنائی گئیں ہیں۔ ان کمیٹیوں میں نمائندگی کا حق ہر ممبر ملک کو حاصل ہے۔

  • پہلی کمیٹی تحفظاتی اور سیاسی معاملات سے متعلق ہے۔ ہتھیاروں میں تخفیف کا معاملہ بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ اس کی مزید امداد کے لیے ایک خصوصی سیاسی کمیٹی بھی ہے۔
  • دوسری کمیٹی اقتصادی اور مالیاتی معاملات کے متعلق ہے۔
  • تیسری کمیٹی سماجی انسانی اور ثقافتی معاملات کے بارے میں ہے۔
  • چوتھی کمیٹی تولیتی معاملات کے متعلق ہے جس میں غیر مختار علاقوں کے معاملات بھی شامل ہیں۔
  • پانچویں کمیٹی انتظامی معاملات اور بجٹ کے متعلق ہے۔
  • چھٹی کمیٹی قانون سے متعلق ہے۔

ان کے علاوہ ایک جنرل اسمبلی کے پریذیڈنٹ، 17 وائس پریذیڈنٹ اور بڑی کمیٹی کے 6 ارکان پر مشتمل ہے جن کا انتخاب جنرل اسمبلی کرتی ہے۔ جنرل کمیٹی کا اجلاس اسمبلی کے کام کا جائزہ لینے اور اسے بخوبی سر انجام دینے کے لیے اکثر منعقد ہوتا ہے۔ جنرل اسمبلی کی امداد کے لیے مزید کئی کمیٹیاں بھی ہیں۔ جنرل اسمبلی اکثر اوقات بہ وقت ضرورت ہنگامی کمیٹیاں بھی مقرر کرتی ہے۔ مثلاً امبلی نے دسمبر 1948ء میں کوریا کے لیے اقوام متحدہ کا کمیشن مقرر کیا۔ اقوام متحدہ نے مصالحتی کمیشن برائے فلسطین مقرر کیا۔ تمام کمیٹیوں کی سفارشات جنرل اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔

اختیارات اور فرائض

جنرل اسمبلی کے اختیارات اور فرائض وسیع ہیں۔ مثلاً

  • امن اور عافیت کے لیے بین الاقوامی اصولوں پر غور کرنا اور اس ضمن میں اپنی سفارشات پیش کرنا۔
  • بین الاقوامی سیاست کی ترویج کرنا
  • بین الاقوامی قانون کی ترقی و تدوین
  • تمام بنی نوع انسان کے لیے بنیادی حقوق اور آزادیوں کو حاصل کرنا۔
  • اقتصادی، سماجی، ثقافتی، تعلیمی اور صحت عامہ کے متعلق بین الاقو امی اشتراک عمل
  • سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے دوسرے اعضا کی رپورٹوں پر غور کرنا
  • کسی تنازع کی صورت میں اس کے حل کے لیے اپنی سفارشات پیش کرنا
  • ٹرسٹی شپ کونسل کے ذریعہ تولیتی معاہدات کی تعمیل کی نگرانی کرنا
  • سلامتی کونسل کے دس غیر مستقل ارکان کا انتخاب
  • اقوام متحدہ کے بجٹ پر غور و غوض کرنا اور اسے منظور کرنا
  • ارکان ملک کے لیے چندے کی رقم مقرر کرنا
  • مخصوص اداروں کے بجٹ کی جانچ پڑتال کرنا وغیرہ
  • اہم مسائل دو تہائی اکثریت سے طے پاتے ہیں۔ باقی مسائل کا فیصلہ حاضر ارکان کی سادہ اکثریت سے کیا جاتا ہے۔

سلامتی کونسل

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا چیمبر

سلامتی کونسل یا سکیورٹی کونسل اقوام متحدہ کا سب سے اہم عضو ہے اس کے کل پندرہ ارکان ہوتے ہیں، جن میں سے پانچ مستقل ارکان جو فرانس، روس، برطانیہ، چین اور امریکا ہیں اور ان کے پاس کسی بھی معاملہ میں راے شماری کو تنہا رد یعنی ویٹو کرنے کا حق حاصل ہے۔

ان کے علاوہ اس کے دس غیر مستقل اراکین بھی ہیں جن کو جنرل اسمبلی دو دو سال کے لیے منتخب کرتی ہے۔ انھیں فوری طور پر دوبارہ منتخب نہیں کیا جاسکتا۔

سلامتی کونسل کے فرائض اور اختیارات

  • اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق دنیا بھر میں امن اور سلامتی قائم رکھنا
  • کسی ایسے جھگڑے یا موضوع کی تفشیش کرنا جو بین الاقوامی نزاع پیدا کر سکتا ہو
  • بین الاقوامی تنازعوں کو سلجھانے کے بارے میں منصوبے تیار کرنا۔
  • سلامتی کونسل اقوام متحدہ کے تمام اراکین کی طرف سے کارروائی کرتی ہے۔ یہ سب اراکان سلامتی کونسل کے فیصلوں کی تعمیل میں ہامی بھرتے ہیں اور اس کی درخواست پر بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے مسلح فوجیں یا دیگر مناسب اقدام کرتے ہیں۔
  • سلامتی کونسل کی کارروائی ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ اس لیے رکن ملک کا ایک ایک نمائندہ ہر وقت اقوام متحدہ کے ہیڈ کواٹرز میں موجود رہتا ہے۔ سلامتی کونسل جہاں چاہے اپنا اجلاس فورا منعقد کر سکتی ہے۔
  • فوجی عملے کی کمیٹی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے چیف آپ سٹاف یا ان کے نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

سلامتی کونسل کی کمیٹیاں

1- ملٹری اسٹاف کمیٹی۔ 2-تخفیف اسلحہ کمیٹی۔ 3-داخلہ کمیٹی۔ 4-ماہرین کی کمیٹی۔ 5-اجتماعی تدابیر کمیٹی۔

اکنامک اور سوشل کونسل

اکنامک اور سوشل کونسل

اس کے 54 اراکین ہیں جس میں سے 18 ممبروں کو جنرل اسمبلی ہر بار باری باری 3، 3 سال لے لیے منتخب کرتی ہے۔ جنرل اسمبلی کے زیر انتظام یہ کونسل اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی سرگرمیوں کی ذمہ دار ہے۔

اس کونسل میں ہر فیصلہ محض کثرت رائے سے کیا جاتا ہے۔ یہ رکن کا ایک ووٹ ہوتا ہے۔ یہ کونسل کمیشنوں اور کمیٹیوں کے ذریعے کام کرتی ہے۔

اس کونسل کے کمیشنوں میں درج ذیل کمیشن شامل ہیں۔

  • اقتصادیات، روزگار اور ترقی سے متعلق کمیشن
  • رسل اور مواصلات سے متعلق کمیشن
  • سرکاری خزانے سے متعلق کمیشن
  • شماریات سے متعلق کمیشن
  • آبادی سے متعلق کمیشن
  • انسانی حقوق سے متعلق کمیشن
  • سماجی ترقی سے متعلق کمیشن
  • خواتین کے حقوق سے متعلق کمیشن
  • منشی ادویات سے متعلق کمیشن
  • ان کے علاوہ تین علاقہ واری کمیشن بھی موجودہ ہیں۔
  • یورپ کے لیے اقتصادی کمیشن
  • ایشیا اور مشرق بعید کے لیے اقتصادی کمیشن
  • جنوبی امریکا کے لیے اقتصادی کمیشن

ٹرسٹی شپ کونسل

ٹرسٹی شپ کونسل

اقوام متحدہ نے ایک بین الاقوامی تولیتی نظام قائم کیا تاکہ ان علاقوں کی نگرانی اور بندوبست کا انتظام کرے جو جداگانہ تولیتی معاہدوں کے ذریعہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی آ گئے۔

تولیتی نظام کا مقصد بین الاقوامی امن و امان اور حفاظت کو ترویض کرنا۔ تولیتی علاقی جات کے باشندوں کی ترقی کا خیال رکھنا تا کہ وہ خود مختاری اور آزادی حاصل کر سکیں۔

تولیتی کانفرس کا فرض ہے کہ تولیتی علاقہ جات کے باشندوں کی سیاسی، اقتصادی، سماجی اور تعلیمی ترقی کے بارے میں استفسار نامہ مرتب کرے جس کی بنا پر انتظام کرنے والی حکومتیں سالانہ رپورٹ تیار کریں۔ اس کے ممبروں میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے علاوہ ٹرسٹ علاقوں کا انتظام کرنے والے ممالک شامل ہوتے ہیں۔

بین الاقوامی عدالت

بین الاقوامی عدالت

بین الاقوامی عدالت کا صدر مقام شہر ہیگ واقع نیدر لینڈز (ہالینڈ) ہے۔ یہ عدالت اقوام متحدہ کا سب سے بڑا قانونی ادارہ ہے۔ تمام ملک جنہوں نے آئین عدالت کے منشور پر دستخط کیے، جس مقدمے کو چاہیں اس عدالت میں پیش کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں خود بھی سلامتی کونسل قانونی تنازعے عدالت بھیج سکتی ہے۔

بین الا قوامی عدالت 15 ججوں پر مشتمل ہے۔ عدالت کی ان ارکان کو جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل آزاد رائے شماری کے زریعی نو سال کے لیے منتخب کرتی ہے۔ جج اپنی ذاتی قابلیت کی بنا پر منتخب ہوتا ہے۔ تاہم یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ اہم قانونی نظام کی نمائندگی ہو جائے۔ یاد رہے کہ ایک ہی ملک کے دو جج بیک وقت منتخب نہیں ہو سکتے۔

سیکریٹریٹ

نیویارک شہر میں اقوام متحدہ کے صدر مقام کے قریب واقع سیکریٹیریٹ کی عمارت

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے سب سے بڑے ناظم امور کی حثیت سے کام کرتا ہے۔ سلامتی کونسل کی سفارش پر جنرل اسمبلی سیکٹری جنرل منتخب کرتی ہے۔ سیکٹری جنرل اسمبلی کو ایک سالانہ رپورٹ پیش کرتا ہے اور اسے حق حاصل ہے کہ اپنا عملہ خود نامزد کرے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ میں مندرجہ ذیل دفاتر شامل ہیں۔

  1. سیکٹری جنرل کا دفتر
  2. اقتصادی اور سماجی امور کا محکمہ
  3. خصوصی سیاسی معاملات کا دفتر
  4. تولیتی اور غیر مختار علاقوں کا عملہ
  5. اطلاعات عامہ کا دفتر
  6. قانونی امور کا دفتر
  7. کانفرس سروس کا دفتر
  8. کنٹرولر کا دفتر
  9. جنرل سروسز کا دفتر
  10. سیاسی اور تحفظاتی امور کا محکمہ
  11. اقوام متحدہ کا جنیوا کا دفتر

مندرجہ ذیل امدادی اداروں میں بھی اقوام متحدہ کا عملہ کام کرتا ہے۔

وہ ادارے جنہیں جنرل اسمبلی یا اقتصادی کونسل قائم کرے

  • یونیسف (unicef) اس کا صدر دفتر ینو یارک میں ہے۔
  • ترقیاتی پروگرام (UNDP)
  • مہاجرین کا کمیشن (UNRWA)
  • اقتصادی ترقی کی تنظیم (UNIDO)
  • انکٹاڈ (UNCTAD)
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل[2]
شمارنامملکقلمدان سنبھالاقلمدان چھوڑانوٹس
1تریگوہ لی ناروے2 فروری 194610 نومبر 1952مستعفی
2داگ ہمارشولد سویڈن10 اپریل 195318 ستمبر 1961دفتر میں انتقال
3اوتھاں برما30 نومبر 196131 دسمبر 1971
4کرٹ والڈہائیم آسٹریا1 جنوری 197231 دسمبر 1981
5خاویر پیریز دے کوئیار پیرو1 جنوری 198231 دسمبر 1991
6بطرس بطرس-غالی مصر1 جنوری 199231 دسمبر 1996
7کوفی عنان گھانا1 جنوری 199731 دسمبر 2006
8بان کی مون جنوبی کوریا1 جنوری 2007برسرمنصب

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. "UN Charter: Chapter III"۔ United Nations۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مارچ 2008۔
  2. "Former Secretaries-General"۔ United Nations۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 نومبر 2013۔
    This article is issued from Wikipedia. The text is licensed under Creative Commons - Attribution - Sharealike. Additional terms may apply for the media files.