اقتصادی تعاون تنظیم

اقتصادی تعاون تنظیم یا ای سی او (فارسی: سازمان همکاری اقتصادی، اردو: اقتصادی تعاون تنظیم، ترکی: Ekonomik İşbirliği Teşkilatı، قازق: Экономикалық ынтымақтастық ұйымы، ازبک: Iqtisodiy Hamkorlik Tashkiloti، کرغیز: Экономикалык Кызматташтык Уюму، آذربائیجانی: İqtisadi Əməkdaşlıq Təşkilatı، تاجک زبان: Ташкилоти ҳамкории иқтисодӣ، پشتو: اقتصادي همکاريو د سازمان) یا ای سی او ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جس میں 10 ایشیائی ممالک شامل ہے۔ یہ رکن ممالک کے درمیان میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع ترتیب دے کر انہیں ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔ اس کے رکن ممالک میں افغانستان، آذربائیجان، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ ای سی او کا صدر دفتر ایران کے دار الحکومت تہران میں واقع ہے۔ اس تنظیم کا مقصد یورپی اقتصادی اتحاد کی طرح اشیاء اور خدمات کے لیے واحد مارکیٹ تشکیل دینا ہے۔

ای سی او کے رکن ممالک
Logo
شعار: "Sustainable socioeconomic development for the people of the region"
Member states of the ECO
صدر دفاتر تہران، ایران
دفتری زبانیں انگریزی زبان
نام آبادی یوریشیا
رکن ریاستیں
رہنما
 Secretary General
ہلال ابراہیم آقا [1]
رقبہ
 کل
7,937,197 کلومیٹر2 (3,064,569 مربع میل) (6واں)
 آبی (%)
6.8
آبادی
 2017 تخمینہ
463,011,736 (3را)
 کثافت
58/کلو میٹر2 (150.2/مربع میل)
خام ملکی پیداوار (مساوی قوت خرید) 2015 تخمینہ
 کل
امریکی $4.7 ٹریلین (پانچواں)
خام ملکی پیداوار (برائے نام) 2016 تخمینہ
 کل
امریکی $1.6 ٹریلین (نواں)
کرنسی
منطقۂ وقت (متناسق عالمی وقت+2 تا +5)
کالنگ کوڈ
ویب سائٹ
www.ecosecretariat.org

یہ تنظیم 1985ء میں ایران، پاکستان اور ترکی نے مل کر قائم کی تھی۔ اس تنظیم نے علاقائی تعاون برائے ترقی (انگریزی:Regional Cooperation for Development) یعنی آر سی ڈی کی جگہ لی جو 1962ء میں قائم ہوئی اور 1979ء میں اس کی سرگرمیاں ختم ہوگئیں۔ 1992ء کے موسم خزاں میں افغانستان سمیت وسط ایشیا کے 7 ممالک آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کو بھی تنظیم کی رکنیت دی گئی۔

رکن ممالک کے درمیان میں 17 جولائی 2003ء کو اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم تجارتی معاہدہ (ECOTA) پر دستخط کیے گئے۔

اس تنظیم کے تمام رکن ممالک موتمر عالم اسلامی (او آئی سی) کے بھی رکن ہیں جبکہ 1995ء سے ای سی او کو او آئی سی میں مبصر کا درجہ بھی حاصل ہے۔

باضابطہ نام

تنظیم کاری کی زبان انگریزی ہے جبکہ۔ جبکہ رکن ممالک کی زبانوں میں باضابطہ مندرجہ ذیل نام سے تنظیم جانی جاتی ہے :

رکن ممالک

سرکاری نام
دار الحکومت
رقبہ (کلومیٹر²)
آبادی
(2010)
کثافت
(فی کلومیٹر²)
خام ملکی پیداوار (2010)(معمولی)[2]
خام ملکی پیداوار (2010)
(فی کس)[3]


کرنسی
سرکاری زبانیں
افغانستان کابل 647,500 27,657,145 42.7 $18.886 million $565 افغان افغانی دری، پشتو زبان
آذربائیجان باکو 86,600 9,802,000 113.2 $37.556 million $3,956 Manat آذربائیجانی زبان، روسی زبان (interethnic)
ایران تہران 1,648,195 79,909,700 47.8 $376.755 million $4,683 Rial فارسی زبان
قازقستان آستانہ 2,724,900 17,926,500 6.6 $184.361 million $7,453 Tenge قازق زبان، روسی زبان
کرغیزستان بشکیک 199,900 6,120,400 30.6 $6.551 million $1,073 Som کرغیز زبان، روسی زبان
پاکستان اسلام آباد 881,913 196,358,000 222.7 $284.185 million $1,468 پاکستانی روپیہ اردو، انگریزی زبان
تاجکستان دوشنبہ 143,100 8,551,000 59.8 $6.922 million $800 Somoni تاجک زبان، روسی زبان (interethnic)
ترکی انقرہ 783,562 79,814,871 101.9 $857.429 million $10,743 ترکی لیرہ ترکی زبان
ترکمانستان اشک آباد 488,100 4,751,120 9.7 $36.180 million $6,622 Manat ترکمن زبان، روسی زبان (interethnic)
ازبکستان تاشقند 447,400 32,121,000 71.8 $66.502 million $2,122 Som ازبک زبان، روسی زبان (interethnic)

مبصرین

اجلاسوں کی فہرست

سربراہ ریاست
میٹنگ تاریخ ملک مقام
1stفروری، 16-17 1992 ایرانتہران
2nd6-7 مئی 1993 ترکیاستنبول
تیسرا سربراہی اجلاس14-15 مئی 1995 پاکستاناسلام آباد
چوتھا سربراہی اجلاس14 مئی 1996 ترکمانستاناشک آباد
Extraordinary14 مئی 1997 ترکمانستاناشک آباد
5th11 مئی 1998 قازقستانالماتی
6th10 جون 2000 ایرانتہران
7th14 اکتوبر 2002 ترکیاستنبول
8th14 ستمبر 2004 تاجکستاندوشنبہ
9th5 مئی 2006 آذربائیجانباکو
10th11 مارچ 2009 ایرانتہران
11th23 دسمبر 2010 ترکیاستنبول
بارہواں سربراہی اجلاس16 اکتوبر 2012 آذربائیجانباکو
تیرہواں سربراہی اجلاس1 مارچ 2017 [5][6] پاکستاناسلام آباد

جنرل سیکٹریوں کی فہرست

# نام ملک مدت
1 Alireza Salari[7] اگست 1988 – جولائی 1992
2 Shamshad Ahmad اگست 1992 – جولائی 1996
3 Önder Özar اگست 1996 – جولائی 2000
4 Abdolrahim Gavahi اگست 2000 – جولائی 2002
5 Seyed Mojtaba Arastou اگست 2002 – جولائی 2003
6 Bekzhassar Narbayev اگست 2003 – جنوری 2004
7 Askhat Orazbay فروری 2004 – جولائی 2006
8 Khurshid Anwar اگست 2006 – جولائی 2009
9 Yahya Maroofi اگست 2009 – جولائی 2012
10 Shamil Alaskerov اگست 2012 – جولائی 2015
11 Halil İbrahim Akça اگست 2015 – جولائی 2018
source ECO Secretaries General

ای سی اور ثقافتی انسٹیٹیوٹ (ای سی آئی)

ECO Cultural Institute (ECI) is affiliated with ECO and aims at fostering understanding and the preservation of the rich cultural heritage of its members through common projects in the field of the کبیرالوسیط، ادب، فن، فلسفہ، کھیل کود and تعلیم۔[8]

دیگر

  • ECO Supreme Audit Institutions
  • ECO Cultural Institute
  • ECO Science Foundation
  • ECO Educational Institute
  • ECO Drug Control Coordination Unit
  • ECO Trade promotion Unit
  • ECO Post
  • ECO Shipping Company

دیگر تنظیموں سے تعلقات

All the ECO states are also member-states of the تنظیم تعاون اسلامی کی معیشت (OIC)، while ECO itself has observer status in the OIC since 1995. سانچہ:Supranational Islamic Bodies

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. "۔:The Secretariat of Economic Cooperation Organization:"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 اپریل 2016۔
  2. "Report for Selected Countries and Subjects"۔ Imf.org۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-02-09۔
  3. Data refer to the year 2010
  4. ECO Secretariat ECO Secretary General Meets the Representatives of Turkish Cyprus State in Tehran
  5. https://sceneonhaiofficial.com/islamabad-rawalpindi-holiday-eco-summit-2017/۔ |title= غیر موجود یا خالی ہے (معاونت)
  6. "Pakistan to host 13th ECO Summit in Islamabad next week"۔ ڈان (اخبار)۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 فروری 2017۔
  7. "ECO Secretary Generals"۔ Ecosecretariat.org۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-02-09۔
  8. "ECO Cultural Institute's Medals"۔ http://en.ecieco.org/۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 اکتوبر 2014۔ External link in |website= (معاونت)

بیرونی روابط

Videos

سانچہ:Economics

 پاکستان

This article is issued from Wikipedia. The text is licensed under Creative Commons - Attribution - Sharealike. Additional terms may apply for the media files.