اطالیہ

اطالیہ (اطالوی میں Italia) جنوبی یورپ میں واقع ایک جزیرہ نما ملک ہے۔ رومی سلطنت و‌رومی تہذیب یہاں سے شروع ہوئی تھی۔ بعض لوگ اسے انگریزی کی نقالی میں اردو میں بھی اٹلی کہتے ہیں۔ اطالیہ کو مسیحیت کا گڑھ کہا جاتا ہے۔ رومن کیتھولک فرقے کے روحانی پیشواہ جن کو پوپ کہا جاتا ہے وہ روم میں واقع ایک جگہ جسے ویٹیکن سٹی (شہر واتیکان) کہتے ہیں، وہاں رہتے ہیں۔ اطالیہ کی سرحد فرانس،آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ سے ملتی ہے۔ جبکہ اٹلی کے درمیان میں سان مرینو(سان مارینو) اور ویٹیکن سٹی( شہر واتیکان) کے آزاد مگر چھوٹے علاقے ہیں۔ اس کا دار الحکومت روم ہے۔ زبان اطالوی اور نظام حکومت پارلیمانی جمہوریہ ہے۔ 25 مارچ 1957 کو یہ یورپی یونین کا رکن بنا تھا۔ اطالیہ یورپی یونین کے بانی ممالک میں شامل ہے۔ اس کا کل رقبہ 301318مربع کلومیٹر اور آبادی 59337888ہے۔ اٹلی میں مسلمانوں کی کل تعداد 1379047 ہے۔

لوا خطا: not enough memory۔

41°54′N 12°29′E

اسلام

اسلام اطالیہ (اٹلی) میں رومن کیتھولک کے بعد دوسرا بڑا مذہب ہے، 2011ء کے اندازے کے مطابق اطالیہ میں مسلمان 2٪ ہیں ۔[1] اطالیہ کا قومی شماریاتی ادارہ (Instituto Nazionale di Stastica) یہاں کے شہریوں کی "حساس" معلومات یکجا نہیں کرتا۔ اس زمرے میں مذہبی وابستگی پر اعداد و شمار بھی شامل ہیں۔ تاہم 2006 میں غیر سرکاری طور پر جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مسلمانوں 723188 سے لے کر دس لاکھ کے درمیان مسلمان یہاں آباد ہیں۔ مسلمانوں کی پہلی آمد نویں صدی عیسوی میں جب صقلیہ خلافت عباسیہ کے زیر اقتدار تھا، تب ہوئی۔ 827ء میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ماتزار میں کاروبار کر رہی تھی۔[2]

بیرونی روابط

مزید دیکھیے

اطالوی معاشرتی جمہوریہ

فہرست متعلقہ مضامین اطالیہ

  • فہرست متعلقہ مضامین اطالیہ
 یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

حوالہ جات

  1. http://www.fgi-tbff.org/sites/default/files/elfinder/FGIImages/Research/fromresearchtopolicy/ipsos_mori_briefing_pack.pdf
  2. "Assessment of the status, development and diversification of fisheries-dependent communities: Mazara del Vallo Case study report" (پی‌ڈی‌ایف)۔ European Commission۔ صفحہ 2۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 ستمبر 2012۔ In the year 827, Mazara was occupied by the Arabs, who made the city an important commercial harbour. That period was probably the most prosperous in the history of Mazara.

(آلپی)

This article is issued from Wikipedia. The text is licensed under Creative Commons - Attribution - Sharealike. Additional terms may apply for the media files.