یسین مظہر صدیقی

پروفیسر ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی ندوی (پیدائش: 26 دسمبر 1944ء، وفات: 15 ستمبر 2020ء) ایک ہندوستانی سنی مسلم اسکالر، مشہور سیرت نگار اور مؤرخ، دار العلوم ندوۃ العلماء کے فاضل تھے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبہ اسلامیات کے ڈائریکٹر تھے۔

یسین مظہر صدیقی
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (اردو میں: محمد یسین مظہر صدیقی ندوی) 
پیدائش 26 دسمبر 1944  
لکھیم پور کھیری ضلع  
تاریخ وفات 15 ستمبر 2020 (76 سال) 
شہریت بھارت  
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم ندوۃ العلماء
جامعہ لکھنؤ
جامعہ ملیہ اسلامیہ (–1966)
جامعہ علی گڑھ (–1975) 
تعلیمی اسناد بی اے اور بی ایڈ ،ماسٹر آف آرٹس ، ایم فل اور پی ایچ ڈی  
استاذ ابو الحسن علی حسنی ندوی ،  خلیق احمد نظامی ،  محمد رابع حسنی ندوی  
پیشہ عالم ،  مؤرخ  
پیشہ ورانہ زبان اردو ،  ہندی  
باب اسلام

ابتدائی زندگی

پروفیسر مظہر صدیقی، برطانوی ہند میں ریاست اتر پردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری کے گاؤں "گولا" میں 26 دسمبر سنہ 1944ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی، بعد ازاں روایتی دینی تعلیم کے لیے لکھنؤ کے دار العلوم ندوۃ العلماء میں داخل ہوئے اور 1959ء میں وہاں سے عالمیت اور فضیلت مکمل کیا۔ 1960ء میں لکھنؤ یونیورسٹی سے فاضلِ ادب کیا۔ 1962ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی سے ہائر سکینڈری کا امتحان پاس کیا، پھر اسی یونیورسٹی سے 1965ء میں بی-اے اور 1966ء میں بی-ایڈ کی ڈگری حاصل کی۔

بعد ازاں انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے 1968ء میں ایم-اے تاریخ، 1969ء میں ایم-فل اور 1975ء میں تاریخ ہی کے مضمون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان تینوں اداروں کی نسبت سے ڈاکٹر موصوف ندوی، جامعی اور علیگ تھے۔ جن اساتذہ کرام انھوں نے فیض پایا ان میں ہندوستان کی نابغہ روزگار ہستیاں شامل ہیں۔ ان میں سے ابو الحسن علی ندوی، خلیق احمد نظامی، اسحاق سندھلوی، عبد الحفیظ بلیاوی، سعید احمد خیرآبادی، عبد الوحید قریشی، غلام محمد قاسمی، مجاہد حسین زیدی اور محمد رابع حسنی ندوی شامل ہیں۔

تدریسی زندگی

ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی کے تدریسی سفر کا آغاز سنہ 1970ء سے ہوا۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں بطور ریسرچ اسسٹنٹ تعینات ہوئے۔ 1977ء میں ان کا تقرر اسی شعبہ میں بطور لیکچرار کے ہوا۔ 1983ء میں سید حامد صاحب ان کو علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ سے "ادارہ علوم اسلامیہ" میں لے آئے، 1991ء میں پروفیسر بنائے گئے۔ 1997ء سے 2000ء تک بطور ڈائریکٹر ادارہ علوم اسلامیہ فرائض سر انجام دیئے۔ 2001ء میں علوم اسلامیہ کے ذیلی ادارہ "شاہ ولی اللہ دہلوی ریسرچ سیل" کے ڈائریکٹر بھی بنا دیئے گئے۔ 31 دسمبر 2006ء میں ادارہ علوم اسلامیہ سے سبکدوش ہو گئے تاہم شاہ ولی اللہ ریسرچ سیل کے ڈائریکٹر کے طور پر تقریباً دس سال کام کیا۔ اس دوران میں انھوں نے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے مختلف پہلوؤں 2000ء سے 2010ء تک قومی و بین الاقوامی سیمینار منعقد کروائے اور 18 کے قریب چھوٹی بڑی کتب منصۂ شہور پر آئیں۔

تصانیف

یسین مظہر صدیقی کی تصانیف: [1]

  • نبی اکرم اور خواتین ایک سماجی مطالعہ
  • سیرت النبی گوشہ نسواں
  • عہد نبوی کا نظام حکومت
  • عہد نبوی میں تنظیم ریاست و حکومت [2]
  • حکومت و ریاست سیرت النبی
  • خلافت اموی خلافت راشدہ کے پس منظر میں
  • تاریخ اسلام
  • بنو ہاشم اور بنو امیہ کے معاشرتی تعلقات
  • تاریخ عرب
  • مصادر سیرت النبی
  • رسول اکرم کی رضاعی مائیں
  • حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی، شخصیت و حکمت کا ایک تعارف
  • شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی
  • شاہ ولی اللہ دہلوی  کی قرآنی خدمات
  • خطبات سرگودھا سیرت نبوی کا عہد مکی
  • سیرت النبی خاندان نبوی
  • سر سید اور علو م اسلامیہ

وفات

15 ستمبر 2020ء کو وفات پاگئے۔[3]

کتابیات

  • نظامی، ظفر احمد. "پروفیسر یسین مظہر صدیقی". قلمی خاکے (ایڈیشن اول، 2013). نئی دہلی: انسٹیٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز. صفحات 263–264. ISBN 978-81-89964-96-2.
  • محمد عبد اللہ. "پروفیسر یسین مظہر صدیقی کی سیرت نگاری" (اردو میں). ضیائے تحقیق (جی سی یونیورسٹی فیصل آباد: شعبہ علوم اسلامی و عربی) 3 (6): 9-17. doi:ڈی او ئي. https://iri.aiou.edu.pk/indexing/?p=23536۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 ستمبر 2020.

حوالہ جات

  1. نظامی، ظفر احمد. قلمی خاکے (ایڈیشن اول، 2013). صفحہ 263-264.
  2. حافظ محمد ثانی (10 نومبر 2019). "عہد نبوی میں تنظیم ریاست و حکومت". روزنامہ جنگ. اخذ شدہ بتاریخ 15 ستمبر 2020. ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کے نظم و نسق اور بنیادی خدّو خال پر ڈاکٹرمحمد یٰسین مظہر صدیقی کا سیرت نگاری کی تاریخ میں ایک اہم اور منفرد علمی کارنام: حافظ محمد ثانی
  3. "معروف مصنف و محقق پروفیسر یسین مظہر صدیقی کا انتقال، علمی حلقہ سوگوار". ملت ٹائمز. 15 ستمبر 2020. اخذ شدہ بتاریخ 15 ستمبر 2020.
This article is issued from Wikipedia. The text is licensed under Creative Commons - Attribution - Sharealike. Additional terms may apply for the media files.