ضمیر اختر نقوی

ضمیر اختر نقوی (ولادت: 24 مارچ 1944ء - وفات: 13 ستمبر 2020ء) پاکستانی شیعہ عالم، مذہبی رہنما، خطیب اور اردو شاعر اہل بیت نیز تذکرہ و سوانح نگار تھے۔

ضمیر اختر نقوی
معلومات شخصیت
پیدائش 24 مارچ 1944  
لکھنؤ  
وفات 13 ستمبر 2020 (76 سال) 
کراچی  
وجہ وفات دورۂ قلب ،  خون ،  نمونیا ،  13 ستمبر 2020ء  
مدفن کراچی  
طرز وفات طبعی موت  
شہریت پاکستان  
عملی زندگی
پیشہ عالم  

اختر نقوی کی پیدائش برطانوی ہند میں ہوئی۔ وہ 24 مارچ 1944ء میں بھارت شہر لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سید ظہیر حسن نقوی تھا جب کہ ان کی والدہ کا نام سیدہ محسنہ ظہیر نقوی تھا۔ پیدائش کے وقت نام ظہیر رکھا گیا تھا۔ 1967ء میں وہ نقل مقام کر کے پاکستان چلے گئے اور مستقلًا کراچی شہر میں سکونت اختیار کیے۔ تعلیمی اعتبار سے وہ لکھنؤ کے حسین آباد اسکول سے میٹرک پاس کیے اور گورنمنٹ جوبلی کالج، لکھنؤ سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیے۔ انہیں گریجویشن کی سند شیعہ کالج لکھنؤ سے حاصل ہوئی۔[1]

سوشل میڈیا پر بھی بہت مشہور تھے، وہ اپنی تقریروں، قصے و واقعات بیان کرنے کے حوالے سے منفرد شہرت رکھتے تھے۔علامہ ضمیر اختر نقوی کولڈن جعفری کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور ان کے بیانات کو سوشل میڈیا پر خوب شیئر کیا جاتا تھا۔ کراچی میں علامہ ضمیر اختر نقوی کو ضمیر گھوڑوی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ علامہ ضمیر اختر نقوی گھوڑوں کی دعوت کیا کرتے تھے اور ان کے لیے باقاعدہ شامیانے لگا کر میزوں پر دودھ جلیبیوں کی پرات سجا کر وہاں لایا جاتا اور اس طرح کی مجالس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اکثر زیر بحث رہتی ہیں۔[2]

ضمیر اختر نقوی نے ایک ویڈیو میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا پاکستان ذوالجناح کی وجہ سے بنا اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے اپنی مجلس میں بیان کیا کہ مسٹر جناح کی دادی ذوالجناح کے پاس گئیں اور ذوالجناح نے ان کے کان میں کچھ کہا پھر کچھ عرصہ بعدمسٹر جناح پیدا ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسٹر جناح کے نام کے ساتھ لفظ ’’جناح‘‘ ذوالجناح کی ہی نسبت سے ہے کیونکہ ان کی پیدائش ذوالجناح کی دعا وغیرہ سے ہوئی تھی۔[3]

علامہ ضمیر اختر نقوی نے شہزادہ قاسم ابنِ حسنؑ ؐ کی سیرت پر دو جلدیں تحریرکیں، اپنے حلقہ اثر میں وہ انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ سوشل میڈیا پر ان کا مذاق اڑایا جاتا جس کی وجہ ان کی دھان پان سی صحت تھی۔ علامہ ضمیر اختر نقوی نے ججون 2020ء میں جب کرونا کی وبا اپنے عروج پر تھی اپن ایک ویڈیو بیان میں دعوی کیا تھا کہ انہوں نے کرونا کا علاج دریافت کر لیا ہے اور وہ کسی کو بتائیں گے نہیں ویڈیو بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ علاج صرف اس صورت میں بتائیں گے جب کوئی حکومتی عہدار ان سے اس سلسلہ میں رابطہ کرے گا۔ ان کی اس ویڈیو کو سنجیدہ اور غیر سنجیدہ دونوں حلقوں میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی اور قریب مہینہ بھر سے زیادہ یہ ویڈیو موضوع سخن بنی رہی۔ ان کی اس ویڈیو نے ٹک ٹاک پر بھی بہت مقبولیت حاصل کی۔ے

ایک ویڈیو بیان میں دعوی کیا تھا کہ انہوں نے کرونا کا علاج دریافت کر لیا ہےاور وہ کسی کو بتائیں گے نہیں ویڈیو بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ علاج صرف اس صورت میں بتائیں گے جب کوئی حکومتی عہدار ان سے اس سلسلہ میں رابطہ کرے گا۔ ان کی اس ویڈیو کو سنجیدہ اور غیر سنجیدہ دونوں حلقوں میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی اور قریب مہینہ بھر سے زیادہ یہ ویڈیو موضوع سخن بنی رہی۔ ان کی اس ویڈیو نے ٹک ٹاک پر بھی بہت مقبولیت حاصل کی۔ دیگر شیعہ علما کی طرح علامہ ضمیر اختر نقوی کو بھی فلسفہ و منطق پر ید طولیٰ حاصل تھا اور تاریخ پر ان کا کام مقتدر حلقوں میں بہت سراہا جاتا ہے۔[4]

تصانیف

  1. تاریخ مرثیہ نگاری
  2. میر انیس، زندگی اور شاعری
  3. مرزا دبیر حالاتِ زندگی اور شاعری
  4. جوش ملیح آبادی کے مرثیے
  5. شعرائے اردو اور عشق علی
  6. اردو مرثیہ، پاکستان میں(1982ء)
  7. خاندان میرانیس کے نامور شعرا
  8. اردو ادب پر واقع کربلا کے اثرات
  9. دبستان ناسخ
  10. تذکرہ شعرائے لکھنؤ
  11. اقبال کا فلسفہ عشق
  12. شعرائے اردو کی ہندی شاعری
  13. ابن صفی کی ناول نگاری
  14. شعرائے مصطفی آباد
  15. میر انیس (ہر صدی کا شاعر)
  16. میر انیس کی شاعری میں رنگوں کا استعمال
  17. میرانیس بحیثیت ماہرِ علمِ حیوانات
  18. نوادرات مرثیہ نگاری(دو جلدیں)
  19. The Study of Elegies Mir Anis
  20. اردو غزل اور کربلا
  21. سوانح حیات جنابِ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
  22. سوانح حیات جنابِ خدیجۃ الکبریٰ
  23. سوانح حیات جنابِ شہربانوؑ
  24. سوانح حیات حضرت عباس علمدارؑ
  25. سوانح حیات جنابِ شہربانوؑ
  26. سوانح حیات شہزادہ علی اکبر ؑ
  27. سوانح حیات جنابِ شہزادہ علی اصغرؑ
  28. سوانح حیات شہزادہ قاسم ابنِ حسنؑ (دو جلدیں)
  29. شہزادہ قاسم کی مہندی
  30. معصوموں کا ستارا شہزادہ علی اصغرؑ
  31. معراجِ خطابت (5 جلدیں)
  32. مجالسِ محسنہ
  33. عظمتِ صحابہ(عشرہ مجالس)
  34. عظمتِ ابوطالبؑ (عشرہ مجالس)
  35. امام اور اُمت (عشرہ مجالس)
  36. ظہورِ امام مہدی (عشرہ مجالس)
  37. احسان اور ایمان (عشرہ مجالس)
  38. قاتلانِ حسینؑ کا انجام (عشرہ مجالس)
  39. قرآن کی قَسمیں (عشرہ مجالس)
  40. محسنین اسلام (عشرہ مجالس)
  41. امہات المعصومین (عشرہ مجالس)
  42. دس دن اور دس راتیں (عشرہ مجالس)
  43. علم زندگی ہے (عشرہ مجالس)

وفات

13 ستمبر 2020ء کو بعارضہ قلب کراچی میں بعمر 76 برس وفات پا گئے،[5] ان کو رات گئے آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ لیکن جانبر نہ ہو سکے، انچولی امام بارگاہ میں نماز جنازہ ادا کی گئی، قبرستان وادی حسین میں تدفین ہوئی

حوالہ جات

  1. https://www.express.pk/story/2080041/1
  2. zahra، sobia (20-10-2018). "web". https://sirfurdu.com. sobia. اخذ شدہ بتاریخ https://sirfurdu.com/archives/30625/. روابط خارجية في |website= (معاونت)
  3. "شعیہ عالم دین انتقال کر گئے". https://sirfurdu.com/. sobia zahra. 20-10-2020. اخذ شدہ بتاریخ 20 اکتوبر 2020. الوسيط |first1= يفتقد |last1= في Authors list (معاونت); روابط خارجية في |website= (معاونت)
  4. Bhatti، Mudassir Bhatti (ایک روشن ستارہ ہوا غروب، علامہ سید ضمیر اختر نقوی وادی حسین قبرستان میں سپرد خاک). "ایک روشن ستارہ ہوا غروب، علامہ سید ضمیر اختر نقوی وادی حسین قبرستان میں سپرد خاک". tjnonline.com. jtn.
  5. https://jang.com.pk/news/819850
This article is issued from Wikipedia. The text is licensed under Creative Commons - Attribution - Sharealike. Additional terms may apply for the media files.